نہیں ؟ عرض کی:یا رسولَ اللہ !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ ، مجھے اللہ تعالیٰ نے ہر طرح کا مال عطا فرمایا ہے۔ ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ بندے کو جب کوئی نعمت عطا فرمائے تو اس کا اثر بندے پر دیکھنا پسند فرماتا ہے۔
(مسند امام احمد، مسند المکیین، حدیث مالک بن نضلۃ ابی الاحوص رضی اللہ تعالی عنہ، ۵/۳۸۴، الحدیث: ۱۵۸۹۲)
مسئلہ:اللہ عَزَّوَجَلَّکی نعمت کا اظہار اخلاص کے ساتھ ہو تو یہ بھی شکر ہے اور اس لئے آدمی کو اپنی حیثیت کے لائق جائز لباسوں میں بہتر پہننا مستحب ہے۔
وَالَّذِیۡنَ یُنۡفِقُوۡنَ اَمْوٰلَہُمْ رِئَآءَ النَّاسِ وَلَا یُؤْمِنُوۡنَ بِاللہِ وَلَا بِالْیَوْمِ الۡاٰخِرِ ؕ وَمَنۡ یَّکُنِ الشَّیۡطٰنُ لَہٗ قَرِیۡنًا فَسَآءَ قَرِیۡنًا ﴿۳۸﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور وہ جو اپنے مال لوگوں کے دکھاوے کو خرچتے ہیں اور ایمان نہیں لاتے اللہ اور نہ قیامت پر، اور جس کا مصاحب شیطان ہوا تو کتنا برا مصاحب ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور وہ لوگ جو اپنے مال لوگوں کے دکھاوے کے لئے خرچ کرتے ہیں اور نہ اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور نہ ہی آخرت کے دن پر (تو ان کے لئے شدید وعید ہے۔) اور جس کا ساتھی شیطان بن جائے تو کتنا برا ساتھی ہوگیا۔
{ وَالَّذِیۡنَ یُنۡفِقُوۡنَ اَمْوٰلَہُمْ رِئَآءَ النَّاسِ: اور وہ لوگ جو اپنے مال لوگوں کے دکھاوے کے لئے خرچ کرتے ہیں۔} بخل کی برائی بیان فرمانے کے بعد اب ان لوگوں کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ جو محض دکھاوے اور شہرت کے لئے مال خرچ کرتے ہیں اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا کا حصول ان کا مقصد نہیں ہوتا۔ یہ بھی اسی حکم میں داخل ہیں جو اوپر گزرا۔
ریا کاری کی مذمت:
اس سے ان لوگوں کو عبرت پکڑنی چاہئے کہ جو نیک کاموں میں لاکھوں روپے خرچ کرتے ہیں لیکن مقصد صرف واہ واہ کروانا ہوتا ہے، بکثرت خیرات کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی یہ شرط رکھتے ہیں کہ اخبار میں خبر اور تصویر ضرور آنی چاہیے، اسی طرح شادیوں کی فضول رسومات میں لاکھوں روپے اڑا دینے والے بھی عبرت حاصل کریں جو صرف اس لئے رسمیں کرتے ہیں کہ اگر یہ رسمیں بھر پور انداز میں نہ کی گئیں ،تو لوگ کیا کہیں گے، فلاں نے اتنا خرچ کیا تھا، میں کیوں پیچھے رہوں