Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
197 - 476
{ وَالّٰتِیۡ تَخَافُوۡنَ نُشُوۡزَہُنَّ:اور جن عورتوں کی نافرمانی کا تمہیں ڈر ہو۔} اس آیت میں نافرمان عورت کی اصلاح کا طریقہ بڑے احسن پیرائے میں بیان فرمایا گیا ہے ۔ 
نافرمان بیوی کی اصلاح کا طریقہ:
	 سب سے پہلے نافرمان بیوی کو اپنی اطاعت کے فوائد اور نافرمانی کے نقصانات بتاؤ نیز قرآن وحدیث میں اس تعلق سے منقول فضائل اور وعیدیں بتا کر سمجھاؤ، اگر اس کے بعد بھی نہ مانیں تو ان سے اپنے بستر الگ کر لو پھر بھی نہ مانیں تو مناسب انداز میں انہیں مارو۔ اس مار سے مراد ہے کہ ہاتھ یا مسواک جیسی چیز سے چہرے اور نازک اعضاء کے علاوہ دیگر بدن پر ایک دو ضربیں لگا دے۔ وہ مار مراد نہیں جو ہمارے ہاں جاہلوں میں رائج ہے کہ چہرے اور سارے بدن پر مارتے ہیں ، مُکّوں ، گھونسوں اور لاتوں سے پیٹتے ہیں ، ڈنڈا یا جو کچھ ہاتھ میں آئے اس سے مارتے اور لہو لہان کردیتے ہیں یہ سب حرام و ناجائز ، گناہ ِ کبیرہ اور پرلے درجے کی جہالت اور کمینگی ہے۔ 
شوہر اور بیوی دونوں ایک دوسرے کے حقوق کا لحاظ رکھیں :
	عورت اور مرد دونوں کو چاہئے کہ وہ ایک دوسرے کے حقوق کا لحاظ رکھیں ، اس سلسلے میں 5 احادیث درج ذیل ہیں :
(1)… حضرت عمرو بن احوص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ انورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’میں تمہیں عورتوں کے حق میں بھلائی کی وصیت کرتا ہوں ، وہ تمہارے پاس مُقَیّدہیں ، تم ان کی کسی چیز کے مالک نہیں ہو البتہ یہ کہ وہ کھلم کھلا بے حیائی کیمُرتَکِبہوں ، اگر وہ ایسا کریں تو انہیں بستروں میں علیحدہ چھوڑ دو، (اگر نہ مانیں تو) ہلکی مار مارو، پس اگر وہ تمہاری بات مان لیں تو ان کے خلاف کوئی راستہ تلاش نہ کرو۔ تمہارے عورتوں پر اور عورتوں کے تمہارے ذمہ کچھ حقوق ہیں۔ تمہارا حق یہ ہے کہ وہ تمہارے بستروں کو تمہارے نا پسندیدہ لوگوں سے پامال نہ کرائیں اور ایسے لوگوں کو تمہارے گھروں میں نہ آنے دیں جنہیں تم ناپسند کرتے ہو۔ تمہارے ذمے ان کا حق یہ ہے کہ ان سے بھلائی کرو، عمدہ لباس اور اچھی غذا دو۔      (ترمذی، کتاب الرضاع، باب ما جاء فی حقّ المرأۃ علی زوجہا، ۲/۳۸۷، الحدیث: ۱۱۶۶)
(2)…حضرت معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جب عورت اپنے شوہر کو دنیا میں ایذا دیتی ہے تو حورِعِین کہتی ہیں : خدا عَزَّوَجَلَّتجھے قتل کرے، اِسے ایذا نہ دے، یہ تو تیرے پاس مہمان ہے، عنقریب تجھ سے جدا ہو کر ہمارے پاس آجائے گا۔(ترمذی، کتاب الرضاع، ۱۹-باب، ۲/۳۹۲، الحدیث: ۱۱۷۷)