Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
188 - 476
ترجمۂکنزالایمان: اور جو ظلم و زیادتی سے ایسا کرے گا تو عنقریب ہم اسے آگ میں داخل کریں گے اور یہ اللہ  کو آسان ہے۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جو ظلم و زیادتی سے ایسا کرے گا تو عنقریب ہم اسے آگ میں داخل کریں گے اور یہ اللہ پر بہت آسان ہے۔
 { وَمَنۡ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ عُدْوٰنًا وَّظُلْمًا:اور جو ظلم و زیادتی سے ایسا کرے گا ۔} یہاں ظلم و زیادتی کی قید اس لئے لگائی کہ جن صورتوں میں مومن کا قتل جائز ہے اس صورت میں قتل کرنا جرم نہیں جیسیمُرْتَد کو سزا میں یا قاتل کو قِصاص میں یا شادی شدہ زانی کو سنگسار کرنے میں یا ڈاکو کو مقابلے یا سزا میں یا باغیوں کو لڑائی میں قتل کرنا یہ سب حکومت کیلئے جائز ہے بلکہ حکومت کو اس کا حکم ہے۔ قتل کے بارے میں مزید تفصیل سورہ مائدہ کی متعدد آیات کے تحت آئے گی۔ 
اِنۡ تَجْتَنِبُوۡا کَبَآئِرَ مَا تُنْہَوْنَ عَنْہُ نُکَفِّرْ عَنۡکُمْ سَیِّاٰتِکُمْ وَنُدْخِلْکُمۡ مُّدْخَلًا کَرِیۡمًا ﴿۳۱﴾ 
ترجمۂکنزالایمان:اگر بچتے رہو کبیرہ گناہوں سے جن کی تمہیں ممانعت ہے تو تمہارے اور گناہ ہم بخش دیں گے اور تمہیں عزت کی جگہ داخل کریں گے۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: اگر کبیرہ گناہوں سے بچتے رہو جن سے تمہیں منع کیا جاتا ہے تو ہم تمہارے دوسرے گناہ بخش دیں گے اور تمہیں عزت کی جگہ داخل کریں گے۔ 
{ اِنۡ تَجْتَنِبُوۡا کَبَآئِرَ:اگر کبیرہ گناہوں سے بچتے رہو ۔} اس سے پہلی آیات میں بعض کبیرہ گناہ کرنے پر وعید بیان کی گئی اور اس آیت میں کبیرہ گناہوں سے بچنے پر (صغیرہ گناہ بخشنے اور عزت کی جگہ داخل کرنے کا) وعدہ ذکر کیا گیا ہے۔ 
(البحر المحیط، النساء، تحت الآیۃ: ۳۰، ۳/۲۴۳)
 کبیرہ گناہ کی تعریف اور تعداد:
	 کبیرہ گناہ کی تعریف یہ ہے کہ وہ گناہ جس کا مُرْتَکِب قرآن وسنت میں بیان کی گئی کسی خاص سخت وعید کا مستحق ہو۔ 
(الزواجر، مقدمۃ فی تعریف الکبیرۃ، ۱/۱۲)