ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اللہ تم پر اپنی رحمت سے رجوع فرمانا چاہتا ہے اور جو لوگ اپنی خواہشات کی پیروی کررہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم سیدھی راہ سے بہت دور ہوجاؤ۔
{ وَیُرِیۡدُ الَّذِیۡنَ یَتَّبِعُوۡنَ الشَّہَوٰتِ:جو لوگ نفسانی خواہشات کی پیروی کررہے ہیں۔} شانِ نزول: یہود و نصاریٰ اور مجوسی بھائی اور بہن کی بیٹیوں سے نکاح حلال سمجھتے تھے جب اللہ تعالیٰ نے ان سے نکاح کرنے کوحرام فرمایا تو وہ مسلمانوں سے کہنے لگے کہ جس طرح آپ خالہ اور پھوپھی کی بیٹی سے نکاح جائز سمجھتے ہو جبکہ خالہ اور پھوپھی تم پر حرام ہے اسی طرح تم بھائی اور بہن کی بیٹیوں سے بھی نکاح کرو۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ تم بھی ان کی طرح زنا میں پڑ جاؤ۔ (مدارک، النساء، تحت الآیۃ: ۲۷، ص۲۲۳، تفسیر کبیر، النساء، تحت الآیۃ: ۲۷، ۴/۵۴-۵۵، جلالین، النساء، تحت الآیۃ: ۲۷، ص۷۵، ملتقطاً)
یُرِیۡدُ اللہُ اَنۡ یُّخَفِّفَ عَنۡکُمْ ۚ وَخُلِقَ الۡاِنۡسٰنُ ضَعِیۡفًا ﴿۲۸﴾
ترجمۂکنزالایمان:اللہ چاہتا ہے کہ تم پر تخفیف کرے اور آدمی کمزور بنایا گیا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:اللہ چاہتا ہے کہ تم پرآسانی کرے اور آدمی کمزور بنایا گیا ہے۔
{ یُرِیۡدُ اللہُ اَنۡ یُّخَفِّفَ عَنۡکُمْ:اللہ چاہتا ہے کہ تم پرآسانی کرے۔} اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے بندوں پر آسانی چاہتا ہے اسی لئے انہیں نرم احکام عطا فرماتا ہے اور کئی جگہ رخصتیں عطا فرماتا ہے، لوگوں کی طاقت کے مطابق ہی انہیں حکم دیتا ہے اور ان کے فطری تقاضوں کی رعایت فرماتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ انسان فطری طور پر کمزور پیدا کیا گیا ہے اوراسی فطری کمزوری کا یہ نتیجہ ہے کہ مرد عورت کی طرف بڑی جلدی مائل ہو جاتا ہے، اس کے لئے عورت اور شہوت سے صبر دشوار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رحم فرماتے ہوئے مردوں کے لئے عورتوں سے شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے نفع اٹھانے کی اجازت دی اور صرف ان عورتوں سے منع کیا جن سے نفع اٹھانے میں فسادِ عظیم اور بڑے نقصان کا خدشہ تھا۔ اسی لئے مُتقی، پرہیزگار اور گناہوں کا تقاضا اور موقع موجود ہونے کے باوجود گناہوں سے بچ رہنے والے اللہ عَزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں بڑے محبوب ہیں کہ انہوں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا کیلئے اپنی کمزوری کا مقابلہ کیا اور اپنی خواہشات کو پس پشت ڈالا۔ ترغیب کیلئے ایک ایسے ہی متقی بزرگ کا واقعہ پیش خدمت ہے۔