’’ جو عورت کسی قوم میں اس کو داخل کردے جو اس قوم سے نہ ہو (یعنی زنا کرایا اور اُس سے اولاد ہوئی) تو اُسے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت کا حصہ نہیں ملے گا اور اللہ تعالیٰ اُسے جنت میں داخل نہ فرمائے گا۔
(ابو داؤد، کتاب الطلاق، باب التغلیظ فی الانتفائ، ۲/۴۰۶، الحدیث: ۲۲۶۳)
(2)… حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جس بستی میں زنا اور سود ظاہر ہوجائے تو اُنہوں نے اپنے لیے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے عذاب کو حلال کرلیا۔
(مستدرک، کتاب البیوع، اذا ظہر الزنا والربا فی قریۃ۔۔۔ الخ، ۲/۳۳۹، الحدیث: ۲۳۰۸)
(3)…حضرت عمرو بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ جس قوم میں زنا ظاہر ہوگا، وہ قحط میں گرفتار ہوگی اور جس قوم میں رشوت کا ظہور ہوگا، وہ رُعب میں گرفتار ہوگی۔
(مشکوۃ المصابیح، کتاب الحدود، الفصل الثالث، ۱/۶۵۶، الحدیث: ۳۵۸۲)
(4)…حضرت بریدہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سرکار دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں بوڑھے زانی پر لعنت کرتی ہیں اور زانیوں کی شرمگاہ کی بدبو جہنم والوں کی ایذا دے گی۔
(مجمع الزوائد، کتاب الحدود والدیات، باب ذم الزنا ، ۶/۳۸۹، الحدیث: ۱۰۵۴۱)
وَالَّذَانِ یَاۡتِیٰنِہَا مِنۡکُمْ فَاٰذُوۡہُمَا ۚ فَاِنۡ تَابَا وَاَصْلَحَا فَاَعْرِضُوۡا عَنْہُمَا ؕ اِنَّ اللہَ کَانَ تَوَّابًا رَّحِیۡمًا ﴿۱۶﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور تم میں جو مرد عورت ایسا کام کریں ان کو ایذا دو پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نیک ہوجائیں تو ان کا پیچھا چھوڑ دو بیشک اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور تم میں جو مرد عورت ایسا کام کریں ان کو تکلیف پہنچاؤ پھر اگر وہ توبہ کرلیں اوراپنی اصلاح کرلیں تو ان کا پیچھا چھوڑ دو۔ بیشک اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا، مہربان ہے۔
{ فَاٰذُوۡہُمَا:ان دونوں کوتکلیف پہنچاؤ۔} بے حیائی کا اِرتکاب کرنے والوں کے متعلق سزا کا بیان کرتے ہوئے فرمایا