سے ڈریں اور سیدھی بات کریں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور وہ لوگ ڈریں جو اگر اپنے پیچھے کمزور اولاد چھوڑ تے تو ان کے بارے میں کیسے اندیشوں کا شکار ہوتے۔ تو انہیں چاہیے کہ اللہ سے ڈریں اور درست بات کہیں۔
{ وَلْیَخْشَ: اور چاہیے کہ ڈریں۔} یتیموں کے سرپرستوں کو فرمایا جارہا ہے کہ وہ یتیموں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈریں اوراُن کی یہ سمجھ کر پرورش کریں کہ اگر ہمارے بچے یتیم رہ جائیں اور کوئی دوسرا ان کی پرورش کرے تو وہ کیسی پرورش چاہتے ہیں ، تو ایسی ہی پرورش وہ دوسرے کے یتیموں کی کریں۔ یہ آیتِ کریمہ اخلاق کی بہترین تعلیم ہے ۔ ہمیشہ دوسرے کے ساتھ وہ معاملہ کرنا چاہیے جو اپنے ساتھ پسند ہے اورجو اپنے لئے پسند نہ ہو وہ دوسروں کے لئے بھی پسند نہیں ہونا چاہیے۔ حدیث ِ مبارک میں بھی فرمایا گیا کہ تم میں کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا جب تک اپنے بھائی کیلئے وہ پسند نہ کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔ (بخاری، کتاب الایمان، باب من الایمان ان یحبّ لاخیہ۔۔۔ الخ، ۱/۱۶، الحدیث: ۱۳)
لہٰذا یتیموں کے سرپرستوں کو چاہیے کہ وہ یتیموں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈریں اور ان سے اچھی اور صحیح بات کہیں مثلاً یہ کہ تم فکر نہ کرو ہم بھی تمہارے باپ جیسے ہیں ، تمہیں پریشانی نہیں آنے دیں گے۔
(خازن، النساء، تحت الآیۃ: ۹، ۱/۳۴۹، مدارک، النساء، تحت الآیۃ: ۹، ص۲۱۲، ملتقطاً)
اِنَّ الَّذِیۡنَ یَاۡکُلُوۡنَ اَمْوٰلَ الْیَتٰمٰی ظُلْمًا اِنَّمَا یَاۡکُلُوۡنَ فِیۡ بُطُوۡنِہِمْ نَارًا ؕ وَسَیَصْلَوْنَ سَعِیۡرًا ﴿٪۱۰﴾
ترجمۂکنزالایمان: وہ جو یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں وہ تو اپنے پیٹ میں نری آ گ بھرتے ہیں اور کوئی دم جاتا ہے کہ بھڑکتے دھڑے (آتش کدے) میں جائیں گے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک وہ لوگ جو ظلم کرتے ہوئے یتیموں کا مال کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں بالکل آگ بھرتے ہیں اور عنقریب یہ لوگ بھڑکتی ہوئی آگ میں جائیں گے۔