ارشاد فرمایا کہ اس اللہ عَزَّوَجَلَّسے ڈرو جس کے نام سے ایک دوسرے سے مانگتے ہو یعنی کہتے ہو کہ اللہ کے واسطے مجھے یہ دو، وہ دو۔ نیز رشتے داری توڑنے کے معاملے میں اللہ عَزَّوَجَلَّسے ڈرو۔
رشتے داری توڑنے کی مذمت:
قرآنِ مجید اور احادیثِ مبارکہ میں رشتہ داری توڑنے کی شدید مذمت بیان کی گئی ہے ،چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
وَالَّذِیۡنَ یَنۡقُضُوۡنَ عَہۡدَ اللہِ مِنۡۢ بَعْدِ مِیۡثٰقِہٖ وَیَقْطَعُوۡنَ مَاۤ اَمَرَ اللہُ بِہٖۤ اَنۡ یُّوۡصَلَ وَیُفْسِدُوۡنَ فِی الۡاَرْضِ ۙ اُولٰٓئِکَ لَہُمُ اللَّعْنَۃُ وَلَہُمْ سُوۡٓءُ الدَّارِ ﴿۲۵﴾ (رعد: ۲۵)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور وہ جو اللہ کا عہد اسے پختہ کرنے کے بعد توڑدیتے ہیں اور جسے جوڑنے کا اللہ نے حکم فرمایا ہے اسے کاٹتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ان کیلئے لعنت ہی ہے اور اُن کیلئے برا گھر ہے۔
حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جس قوم میں رشتہ داری توڑنے والاہوتا ہے اس پر رحمت نہیں اترتی۔
(شعب الایمان، السادس والخمسون من شعب الایمان، ۶/۲۲۳، الحدیث: ۷۹۶۲)
اور حضرت ابو بکرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ جس گناہ کی سزا دنیا میں بھی جلد ہی دیدی جائے اور اس کے لئے آخرت میں بھی عذاب رہے وہ بغاوت اور قَطع رَحمی سے بڑھ کر نہیں۔ (ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ، ۵۷-باب، ۴/۲۲۹، الحدیث: ۲۵۱۹)
لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ رشتے داری توڑنے سے بچے اور رشتہ داروں کے ساتھ تعلقات جوڑ کر رکھنے کی بھرپور کوشش کرے۔
وَاٰتُوا الْیَتٰمٰۤی اَمْوٰلَہُمْ وَلَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِیۡثَ بِالطَّیِّبِ ۪ وَلَا تَاۡکُلُوۡۤا اَمْوٰلَہُمْ اِلٰۤی اَمْوٰلِکُمْ ؕ اِنَّہٗ کَانَ حُوۡبًا کَبِیۡرًا ﴿۲﴾