کھانا رکھا ہوا تھا ، اس دوران ایک غلام نے آ کر عرض کی : حضرت عتبہ بن ابی فرقد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُدروازے پر کھڑے ہیں۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے انہیں اند رآنے کی اجازت دی۔جب حضرت عتبہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ آئے تو حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس کھانے میں سے کچھ انہیں دیا۔ حضرت عتبہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اسے کھایا تو وہ ایسا بد مزہ تھا کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اسے نگل نہ سکے۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کی : اے امیر المؤمنین!رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہُُ، کیا آپ کو حواری نامی کھانے میں رغبت ہے (تاکہ آپ کی بارگاہ میں وہ کھاناپیش کیا جائے) ۔ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا ’’کیا وہ کھانا ہر مسلمان کو مُیَسَّر ہے ؟ حضرت عتبہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی: خدا کی قسم! نہیں۔ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا ’’اے عتبہ ! تم پر افسوس ہے ، کیا تم یہ چاہتے ہو کہ میں دُنیَوی زندگی میں مزیدار کھانا کھاؤں اور آسودگی کے ساتھ زندگی گزاروں۔ (اسد الغابہ، باب العین والمیم، عمر بن الخطاب، ۴/۱۶۸)
حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے فرمایا ’’اللہتعالیٰ ارشاد فرماتا ہے میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے وہ نعمتیں تیار کر رکھی ہیں کہ جنہیں نہ کسی آنکھ نے دیکھا ،نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی آدمی کے دل پر ان کا خطرہ گزرا۔
(بخاری، کتاب بدء الخلق، باب ما جاء فی صفۃ الجنۃ وانّہا مخلوقۃ، ۲/۳۹۱، الحدیث: ۳۲۴۴)
حضرت سہل بن سعد ساعدی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، حضور پُر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جنت کی اتنی جگہ جس میں کَوڑا رکھ سکیں دنیا اور جو کچھ اس میں ہے سب سے بہتر ہے۔
(بخاری، کتاب بدء الخلق، باب ما جاء فی صفۃ الجنۃ وانّہا مخلوقۃ، ۲/۳۹۲، الحدیث: ۳۲۵۰)
وَ اِنَّ مِنْ اَہۡلِ الْکِتٰبِ لَمَنۡ یُّؤْمِنُ بِاللہِ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکُمْ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡہِمْ خٰشِعِیۡنَ لِلہِ ۙ لَا یَشْتَرُوۡنَ بِاٰیٰتِ اللہِ ثَمَنًا قَلِیۡلًا ؕ اُولٰٓئِکَ لَہُمْ اَجْرُہُمْ عِنۡدَ رَبِّہِمْ ؕ اِنَّ اللہَ سَرِیۡعُ الْحِسَابِ ﴿۱۹۹﴾
ترجمۂکنزالایمان:اور بیشک کچھ کتابی ایسے ہیں کہ اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور اس پر جو تمہاری طرف اترا اور جو ان کی طرف اترا ان کے دل اللہ کے حضور جھکے ہوئے اللہکی آیتوں کے بدلے ذلیل دام نہیں لیتے یہ وہ ہیں جن کا ثواب ان کے رب کے پاس ہے اور اللہ جلد حساب کرنے والا ہے ۔