حاصل ہوئے تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ان قیدیوں کوتقسیم فرما دیا اور اس اعرابی کا حصہ نکال کر صحابۂ کرام رَضِی َاللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے سپرد کر دیا۔ وہ اعرابی صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُان کے پیچھے پہرہ دیاکرتے تھے(تاکہ دشمن اچانک حملہ نہ کر دے) ۔ جب وہ (پہرے کی جگہ سے) آیا تو صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے ا س کا حصہ اسے دیا۔اس نے عرض کی:یہ کیا ہے؟ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمنے فرمایا’’ یہ تمہارا حصہ ہے ،جو نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے عطافرمایا ہے۔وہ اعرابی اپنے حصے کو لے کر رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگا ہ میں حاضرہوئے اور عرض کی ’’یا رسول اللہ !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ ،یہ کیا ہے ؟آپ صَلَّی اللہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشادفرمایا’’میں نے یہ تمہارا حصہ نکالا ہے ۔اس نے عرض کی ’’یا رسول اللہ !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ ،میں نے مال کے حصول کے لئے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی پیروی نہیں کی بلکہ میں نے تو اس لئے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی پیروی کی ہے تاکہ مجھے یہاں گلے پر تیر لگے اور میں شہید ہو کر جنت میں داخل ہوجاؤں۔حضور پر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ اگر تم (اپنی بات میں مخلص اور) سچے ہوتو اللہتعالیٰ تمہاری یہ خواہش ضرورپوری فرمائے گا ۔اس کے بعد لوگ کچھ دیر کے لئے ٹھہرے رہے، پھر دشمن کے ساتھ جہاد کے لئے اٹھے تو(جہاد کے دوران) کچھ آدمی اُس اعرابی کو اِس حال میں سید المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں لائے کہا اسے وہیں تیر لگا ہو اتھا جہاں تیر لگنے کااس نے اشارہ کیا تھا۔حضور پر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ کیا یہ وہی شخص ہے ؟عرض کیا گیا: جی ہاں۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے فرمایا’’ یہ اپنی بات میں مخلص تھا تو اللہ تعالیٰ نے اس کی خواہش پوری فرمادی۔حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے(برکت کے لئے ) اسے اپنے جبہ مبارکہ میں کفن دیا ،پھر اسے اپنے سامنے رکھا اور اس کا جنازہ پڑھایا۔اس کی نماز جنازہ میں جو دعا آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے فرمائی وہ یہ تھی
’’اللھُمَّ ھَذَاعَبْدُکَ خَرَجَ مُھَاجِرًا فِیْ سَبِیْلِکَ فَقُتِلَ شَھِیْدًااَنَاشَھِیْدٌ عَلٰی ذٰلِک‘‘‘
اے اللہ ! عَزَّوَجَلَّ، یہ تیرا وہی بندہ ہے جس نے تیری راہ میں ہجرت کی اور شہید ہوگیا اور میں اس چیز کا گواہ ہوں۔
(نسائی، کتاب الجنائز، الصلاۃ علی الشہداء، ص۳۳۰، الحدیث: ۱۹۵۰)
لَا یَغُرَّنَّکَ تَقَلُّبُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا فِی الْبِلٰدِ ﴿۱۹۶﴾ؕ مَتٰعٌ قَلِیۡلٌ ۟ ثُمَّ مَاۡوٰىہُمْ جَہَنَّمُ ؕ وَبِئْسَ الْمِہَادُ ﴿۱۹۷﴾