Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
120 - 476
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کی باہم تبدیلی میں عقلمندوں کے لئے نشانیاں ہیں۔
{ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الۡاَلْبٰبِ: عقلمندوں کے لئے نشانیاں ہیں۔}حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں ، میں حضرت میمونہ رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہا کے گھر رات میں ٹھہرا اورا س دن سرکارِ دو عالمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ بھی اُن کے ہاں آرام فرما تھے، جب رات کا تہائی حصہ گزرا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ بیدار ہو ئے پھر آسمان کی طرف نظر ا ٹھا کران آیاتِ مبارکہ کی تلاوت فرما ئی۔ (بخاری، کتاب الادب، باب رفع البصر الی السماء، ۴/۱۵۹، الحدیث: ۶۲۱۵) 
	ایک روایت میں ہے کہ تلاوت کے بعد ارشاد فرمایا:’’اس پر افسوس ہے جویہ آیت پڑھے اوراس میں غور نہ کرے۔
(الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان، کتاب الرقائق، باب التوبۃ، ۲/۸، الحدیث: ۶۱۹) 
سائنسی علوم حاصل کرنا کب باعثِ ثواب ہے:
	اس آیت سے معلوم ہوا کہ علمِ جغرافیہ اور سائنس حاصل کرنا بھی ثواب ہے جبکہ اچھی نیت ہو جیسے اسلام اور مسلمانوں کی خدمت یااللہ تعالیٰ کی عظمت کا علم حاصل کرنے کیلئے، لیکن یہ شرط ہے کہ اسلامی عقائد کے خلاف نہ ہو۔ اِس آیت مبارکہ میں آسمان و زمین کی تَخلیق میں قدرت ِ الٰہی کی نشانیوں کا فرمایا گیا ہے لہٰذا اسی کے پیش نظراِس تفکر کی ایک جھلک آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں : امام غزالی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِِ فرماتے ہیں ’’قدرتِ الٰہی کی چھٹی نشانی آسمانوں ، ستاروں کی مملکت اور ان کے عجائب میں ہے ، کیونکہ جو کچھ زمین کے اندر اور روئے زمین پر ہے وہ سب کچھ ا س کے مقابلے میں کم ہے۔آسمان اور ستاروں کے عجائب میں تفکر کرنے کے لئے قرآنِ پاک میں تنبیہ فرمائی گئی ہے ،چنانچہ ارشاد فرمایا:
وَ جَعَلْنَا السَّمَآءَ سَقْفًا مَّحْفُوۡظًا ۚۖ وَّ ہُمْ عَنْ اٰیٰتِہَا مُعْرِضُوۡنَ ﴿۳۲﴾ (انبیاء:۳۲)
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور ہم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت بنایا اور وہ لوگ اس کی نشانیوں سے منہ پھیرے ہوئے ہیں۔
	دوسری جگہ ارشاد فرمایا:
لَخَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اَکْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوۡنَ ﴿۵۷﴾ (مومن۵۷)
ترجمۂکنزُالعِرفان:بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش آدمیوں کی پیدائش سے بہت بڑی ہے لیکن بہت لوگ نہیں جانتے ۔
	 تو تمہیں حکم دیاگیاہے کہ زمین و آسمان کی تخلیق میں غوروفکر کرو ۔آسمان کی نیلاہٹ اور ستاروں کی ٹمٹماہٹ کو دیکھ لینا غور نہیں کہ یہ تو جانور بھی کر لیتے ہیں بلکہ مقامِ افسوس تو یہ ہے کہ تو اپنے عجائب اور اپنی ذات کو جو تیرے پاس ہیں اور وہ