کتابوں میں سرورِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی نبوت پر دلالت کرنے والے جو دلائل ہیں وہ لوگوں کو خوب اچھی طرح واضح کرکے سمجھادیں اور ہر گز نہ چھپائیں لیکن انہوں نے رشوتیں لے کر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کے اُن اوصاف کو چھپایا جو توریت و انجیل میں مذکور تھے۔
علمِ دین چھپانا گناہ ہے:
اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ علمِ دین کو چھپانا گناہ ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ جس شخص سے کچھ دریافت کیا گیا جس کو وہ جانتا ہے اور اس نے اس کو چھپایا روزِ قیامت اسے آگ کی لگام ڈالی جائے گی۔
(ترمذی، کتاب العلم، باب ما جاء فی کتمان العلم، ۴/۲۹۵، الحدیث: ۲۶۵۸)
علماء پر واجب ہے کہ اپنے علم سے فائدہ پہنچائیں اور حق ظاہر کریں اور کسی غرض فاسد کے لئے اس میں سے کچھ نہ چھپائیں۔
لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیۡنَ یَفْرَحُوۡنَ بِمَاۤ اَتَوۡا وَّیُحِبُّوۡنَ اَنۡ یُّحْمَدُوۡا بِمَا لَمْ یَفْعَلُوۡا فَلَا تَحْسَبَنَّہُمْ بِمَفَازَۃٍ مِّنَ الْعَذَابِ ۚ وَلَہُمْ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۱۸۸﴾
ترجمۂکنزالایمان:ہر گز نہ سمجھنا انہیں جو خوش ہوتے ہیں اپنے کیے پر اور چاہتے ہیں کہ بے کیے ان کی تعریف ہو ایسوں کو ہر گز عذاب سے دور نہ جاننا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:ہر گزگمان نہ کرو ان لوگوں کو جو اپنے اعمال پر خوش ہوتے ہیں اور پسند کرتے ہیں کہ ان کی ایسے کاموں پر تعریف کی جائے جو انہوں نے کئے ہی نہیں ، انہیں ہرگز عذاب سے دور نہ سمجھو اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے ۔
{ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیۡنَ یَفْرَحُوۡنَ بِمَاۤ اَتَوۡا: ہر گزگمان نہ کرو ان لوگوں کو جو اپنے اعمال پر خوش ہوتے ہیں۔ } یہ آیت ان یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی جو لوگوں کو دھوکا دینے اور گمراہ کرنے پر خوش ہوتے اور نادان اورجاہل ہونے کے باوجود یہ پسند کرتے کہ انہیں عالم کہا جائے ۔ (خازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۸۸، ۱/۳۳۴)
خود پسندی اور حب جاہ کی مذمت :
اس آیت میں خود پسندی کرنے والوں کے لئے وعید ہے اوران کے لئے جوحب ِجاہ یعنی عزت ، تعریف ، شہرت