Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
113 - 476
 کر دیا جائے جبکہ دنیا میں کامیابی فی نفسہ کامیابی تو ہے لیکن اگر یہ کامیابی آخرت میں نقصان پہنچانے والی ہے تو حقیقت میں یہ خسارہ ہے۔ اور خصوصا وہ لوگ کہ دنیا کی کامیابی کے لئے سب کچھ کریں اور آخرت کی کامیابی کیلئے کچھ نہ کریں وہ تو یقینا نقصان ہی میں ہیں۔ لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ ایسے اعمال کی طرف زیادہ توجہ دے اور ان کے لئے زیادہ کوشش کرے جن سے اسے حقیقی کامیابی نصیب ہو سکتی ہے اور ان اعمال سے بچے جو اس کی حقیقی کامیابی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔
{ وَمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتٰعُ الْغُرُوۡرِ ﴿۱۸۵﴾:اور دنیا کی زندگی تو صرف دھوکے کا سامان ہے۔} یعنی دنیا کی لذتیں ، اس کی خواہشات اور رعنائیاں صرف دھوکے کا سامان ہے کیونکہ ان کا ظاہر تو بہت خوبصورت نظر آتا ہے لیکن ان کا باطن فساد سے بھرپور ہے۔
دنیا کی زندگی دھوکے کا سامان ہے :
	اس آیت سے معلوم ہو اکہ دنیا کی عیش و عشرت اور زیب و زینت اگرچہ کتنی ہی زیادہ ہو، یہ دھوکے کے سامان کے علاوہ کچھ نہیں ،لہٰذا ہر انسان کو چاہئے کہ وہ دنیا کی رنگینیوں سے ہر گز دھوکہ نہ کھائے ، ذلیل دنیا کو حاصل کرنے کے لئے اپنی قیمتی ترین آخرت کو ہر گز تباہ نہ کرے ،اسی کی ترغیب دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے
یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوۡا رَبَّکُمْ وَاخْشَوْا یَوْمًا لَّا یَجْزِیۡ وَالِدٌ عَنۡ وَّلَدِہٖ ۫ وَ لَا مَوْلُوۡدٌ ہُوَ جَازٍ عَنۡ وَّالِدِہٖ شَیْـًٔا ؕ اِنَّ وَعْدَ اللہِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّکُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا ٝ وَلَا یَغُرَّنَّکُمۡ بِاللہِ الْغَرُوۡرُ ﴿۳۳﴾ (لقمان:۳۳)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے لوگو!اپنے رب سے ڈرو اور اس دن کا خوف کرو جس میں کوئی باپ اپنی اولاد کے کام نہ آئے گا اور نہ کوئی بچہ اپنے باپ کو کچھ نفع دینے والاہوگا۔ بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے تو دنیا کی زندگی ہرگز تمہیں دھوکا نہ دے اور ہرگز بڑا دھوکہ دینے والا تمہیں اللہ کے علم پر دھوکے میں نہ ڈالے۔
	اور حضرت ابوموسیٰ اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے ،سیدُ المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جو شخص اپنی دنیا سے محبت کرتا ہے وہ اپنی آخرت کو نقصان پہنچا لیتا ہے اور شخص اپنی آخرت سے محبت کرتا ہے تو وہ اپنی دنیا کو نقصان پہنچاتا ہے، لہذا تم فنا ہوجانے والی (دنیا) پر باقی رہنے والی (آخرت )کو ترجیح دو۔ 
(مسند امام احمد، مسند الکوفیین، حدیث ابی موسی الاشعری، ۷/۱۶۵، الحدیثـ: ۱۹۷۱۷)
	امام محمد غزالی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ایک بزرگ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ’’ اے لوگو! اس فرصت کے وقت میں نیک عمل کرلو اور اللہتعالیٰ سے ڈرتے رہو۔ امیدوں پر پھولے مت سماؤ اوراپنی موت کو نہ بھولو۔ دنیا کی طرف مائل نہ ہوجاؤ، بے شک یہ د ھوکے باز ہے اور دھوکے ساتھ بن ٹھن کر تمہارے سامنے آتی ہے اور اپنی خواہشات کے ذریعے تمہیں