Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
109 - 476
کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْتِ ؕ وَ اِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوۡرَکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ؕ فَمَنۡ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدْخِلَ الْجَنَّۃَ فَقَدْ فَازَ ؕ وَمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتٰعُ الْغُرُوۡرِ ﴿۱۸۵﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: ہر جان کو موت چکھنی ہے اور تمہارے بدلے تو قیامت ہی کو پورے ملیں گے جو آگ سے بچا کر جنت میں داخل کیا گیا وہ مراد کو پہنچا اور دنیا کی زندگی تو یہی دھوکے کا مال ہے۔

ترجمۂکنزُالعِرفان:ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے اورقیامت کے دن تمہیں تمہارے اجر پورے پورے دئیے جائیں گے توجسے آگ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا تو وہ کامیاب ہوگیا اور دنیا کی زندگی تو صرف دھوکے کا سامان ہے ۔ 
{ کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْتِ: ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے ۔ } یعنی انسان ہو ں یا جن یا فرشتہ، غرض یہ کہ اللہ عَزَّوَجَلَّکے سوا ہر زندہ کو موت آنی ہے اور ہر چیز فانی ہے ۔ 
موت کی یاد اور اس کی تیاری کی ترغیب:
 	اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہتعالیٰ نے ہر جاندار پر موت مقرر فرما دی ہے اوراس سے کسی کو چھٹکارا ملے گا اور نہ کوئی اس سے بھاگ کر کہیں جا سکے گا۔ موت روح کے جسم سے جدا ہونے کا نام ہے اور یہ جدائی انتہائی سخت تکلیف اور اذیت کے ساتھ ہو گی اور اس کی تکلیف دنیا میں بندے کو پہنچنے والی تمام تکلیفوں سے سخت تر ہو گی۔موت اور اس کی سختی کے بارے میں اللہ  تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :
وَ جَآءَتْ سَکْرَۃُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ؕ ذٰلِکَ مَا کُنۡتَ مِنْہُ تَحِیۡدُ ﴿۱۹﴾      (ق:۱۹)

ترجمۂکنزُالعِرفان:اور موت کی سختی حق کے ساتھ آگئی، (اس وقت کہا جاتا ہے)یہ وہ (موت)ہے جس سے تو بھاگتا تھا ۔ 
	حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے حضرت کعب احبار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے فرمایا’’اے کعب! رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہُُ، ہمیں موت کے بارے میں بتائیے۔ حضرت کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی :اے امیر المؤمنین ! رَضِیَ اللہُ