Brailvi Books

شرحِ شجرہ قادِریہ رضویہ عطاریہ
127 - 216
وَ یُطَافُ عَلَیۡہِمۡ بِاٰنِیَۃٍ مِّنۡ فِضَّۃٍ وَّ اَکْوَابٍ
ترجمہ کنزالایمان:اور ان پر چاندی کے برتنوں اور کُوزوں کا دَور ہوگا۔   (پ ۲۹، الدھر:۱۵)

(سوانح امام احمد رضا ، ص ۳۸۴، مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر )

    ۲۵صفَر الْمُظَفَّر ۱۳۴۰ھ مطابق ۱۹۲۱ء کو جُمُعَۃُ الْمبارَک کے دن ہندوستان کے وقت کے مطابق ۲ بج کر ۳۸ منٹ پر،عین اذان کے وقت اِدھر مُؤَذِّن نے حَیَّ عَلَی الفَلاح کہا اور اُدھر اِمامِ اَہلسُنَّت ، مُجَدِّدِ دین ومِلّت، عالِمِ شَرِیْعَت، پیرِطریقت، حضرتِ علامہ مولٰینا الحاج الحافِظ القاری الشاہ امام اَحمد رَضا خان علیہ رحمۃ الرحمن نے داعئی اَجل کو لبیک کہا۔اِنّا لِلّٰہِ وَانَّآ اِلَیہِ رَاجِعُون۔

    آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا مزارِپُراَنوار بریلی شریف (ہند)میں آج بھی زیارت گاہِ خاص و عام بنا ہوا ہے۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !صلَّی اللہُ تَعالٰی عَلٰی محمَّد
دربارِ رسالت میں انتظار
    ۲۵ صفَر المُظَفَّر کو بیت المقدَّس میں ایک شامی بُزُرگ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے خواب میں اپنے آپ کو دربارِ رسالت صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہٖ و سلّم میں پایا ۔تمام صحابہ کرام علیہم الرضوان اور اولیائے عِظام رَحِمَہُمُ اللہُ تعالٰی دربار میں حاضِر تھے ،لیکن مجلس میں سُکوت طاری تھا اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ کسی آنے والے کا اِنتظار ہے ۔شامی
Flag Counter