Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
259 - 470
رات‘‘ سن کر میرا دل پہلے ہی چوٹ کھاچکاتھا، چُنانچِہ میں  نے زندگی میں  پہلی باراِجتِماعِ ذکرو نعت میں  جانے کا ارادہ کیا۔ مگرمیری حَماقت کہ خوب میک اپ کر کے جدید فیشن کا لباس پہن کر اِجتِماع میں  گئی، ایک اسلامی بہن نے وہاں  سنّتوں  بھرا بَیان فرمایا، جسے سُن کر میرے دل کی دُنیا زَیر و زَبَر ہوگئی۔ بَیان کے بعدجب منقبت  ’’یاغوث بلاؤ مجھے بغداد بلاؤ‘‘ پڑھی گئی، اِس نے گویا گرم لوہے پر ہتھوڑے کا کام کیا! یوں  میں  دعوتِ اسلامی کے سنّتوں  بھرے اِجتِماعات میں  شریک ہونے لگی۔ مدَنی آقا کی دیوانیوں  کی صحبتوں  کی بَرَکت سے میرے دل میں  گناہوں  سے نفرت پیدا ہوئی، توبہ کی سعادت ملی۔ اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ ! میں  دعوتِ اسلامی کے مدَنی ماحول سے وابَستہ ہو کر نیکیوں  کی شاہراہ پر ایسی گامزن ہوئی کہ میں  وہی فیشن کی پُتلی جو کہ پہلے باہر نکلتے وقْت دوپٹا بھی ٹھیک طرح سے نہیں  اَوڑھتی تھی، کچھ ہی عرصے میں  مدَنی برقع پہننے کی سعادت پانے لگی۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ ! آج میں  دعوتِ اسلامی کے مَدَنی کاموں  کی دُھومیں  مچانے کیلئے کوشاں  ہوں ۔
اللہ کرَم ایسا کرے تجھ پہ جہاں  میں 
اے دعوتِ اسلامی تری دُھوم مچی ہو!
(وسائلِ بخشش از امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ، ص۱۹۳)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! 		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد