میں نذر کر کے تمام انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام ، صحابۂ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان اوراولیائے عظام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کی ارواح طیبہ کی نذر کیجئے جن کے ہاتھ پر بیعت کی ہے وہ زندہ ہوں تب بھی ان کا نام شامل فاتحہ کرلیجئے کہ جیتے جی (1) بھی ایصال ثواب ہوسکتاہے اور ساتھ ہی دعائے درازی عمر بِالخیر بھی فرمایئے۔
________________________________
1 - زندہ مسلمان کیلئے بھی ایصالِ ثواب کرنا جائز ہے جیسا کہ حضرت سیدنا صالح ابن درہمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَمفرماتے ہیں: ہم حج کرنے جا رہے تھے کہ ایک صاحب (یعنی حضرت سیِدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ) ملے اور پوچھنے لگے: کیا تم سے کوئی قریب بستی ہے جسے’’ ابلہ ‘‘کہا جاتاہے ؟ ہم نے کہا :جی ہاں۔ (یہ سن کر) انہوں نے فرمایا: تم میں کون اس کا ضامن بنتا ہے کہ مسجد عشار میں میرے لئے دو یا چار رکعتیں پڑھ دے اور کہہ دے کہ یہ نماز ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ( کے ایصالِ ثواب) کیلئے ہے۔ (ابوداوٗدج۴ص۱۵۳حدیث۴۳۰۸)