ہو اور خشک ہو جائے تو وضو اور غسل کی تَمامِیَّت سے مانِع (یعنی مکمل ہونے میں رکاوٹ )ہے۔ یعنی اس کی وجہ سے وضو اور غسل تام(یعنی مکمَّل) نہیں ہو گا۔ ( عالمگیری ،ج۱،ص۴ ،دارالفکر بیروت)اِسی میں ایک اور مقام پر ہے:’’ اگر عورت نے اپنے سر پر کوئی خوشبو اس طرح لگائی کہ اس کی وجہ سے بالوں کی جڑوں تک پانی نہیں پہنچتا تو اس پر اس خوشبو کو زائل کرنا واجِب ہے تا کہ پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے۔‘‘ (ایضاً ،ص۱۳ ) صَدرُالشَّریعہ،بَدرُالطَّریقہحضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِیفرماتے ہیں: ’’مچھلی کاسِنّا اعضائے وُضو پر چپکا رہ گیا وضو نہ ہو گا کہ پانی اس کے نیچے نہ بہے گا۔‘‘ (بہار شریعت ،جلد۱ ،حصہ۲، ص۲۹۲ ،مکتبۃ المدینہ کراچی)اور جہاں تک اس بات کا تعلُّق ہے کہ فُقَہاء کرام رَحِمَہُمُ السَّلَامنے مہندی کے جِرم(یعنی تہ) کے باوُجُود وُضو ہوجانے کی تصریح کی ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اُن حضرات کا یہ حکم اُس معمولی سے جِرم(یعنی تہ) کے بارے میں ہے جو مہندی لگانے کے بعد اچّھی طرح دھو نے کے بعد بھی لگارہ جاتا ہے جس کی دیکھ بھال میں حَرَج ہے جیسے آٹا گوندھنے کے بعد معمولی سا آٹا ناخُن وغیرہ پر لگارہ جاتاہے ، یہ نہیں کہ پورے ہاتھ پاؤں پر پلاسٹک کی طرح مہندی کا جرم(یعنی جسم ، تہ) چڑھالیں، بازوؤں پر بھی ایسی ہی مہندی کا اچّھا خاصا حصّہ جمالیں، پورا چہرہ اسٹیکرز والے میک اَپ سے چھپالیں اور پھر بھی وُضو و غسل ہوتا رہے! ایسی اجازت ہر گز ہرگز کسی فقیہ نے نہیں دی۔بہرحال مذکورہ صورت میں وضو نہیں ہوتا اور جب وضو نہ ہوا تو نماز بھی نہ ہوئی، لہٰذا ماضی میں اگرکسی نے اِس طرح پنج گانہ نمازیں پڑھی ہوں تواُس کیلئے ضروری ہے کہ یاد کرکے اور اگر یادنہ ہو تو ظنِّ غالب کے مطابِق حساب لگا کر فرضوں اور وتر کی قضا پڑھے۔