Brailvi Books

شیطان کے بعض ہتھیار
48 - 50
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
تہ دار مہندی لگانے سے وضو و غسل نہیں ہوتا
   (دارالافتاء اہلسنّت کے غیر مطبوعہ فتوے کی تلخیص)                                                                  
جرم دار یعنی تہ والی مہندی ،نیل پالش اور اسٹیکرز والے میک اپ کے لگے ہونے کی حالت میں وُضو اور غسل نہیں ہو تا، اس لیے کہ مذکورہ تینوں چیزیں پانی کے جلد تک پہنچنے سے مانع (یعنی رُکاوٹ)ہیں،اوران چیزوں کا لگانا کسی شرعی ضرورت یا حاجت کے لیے بھی نہیں۔ قاعدہ یہ ہے کہ جو چیزیں پانی کو جسم تک پہنچنے سے مانع (یعنی رُکاوٹ) ہوں اُن کے جسم پر چپکے ہونے کی حالت میں وُضو اور غسل نہیں ہوتا، کیونکہ وُضو میں سر کے علاوہ باقی تینوں اَعضائے وضوپر اور غسل میں پورے جسم کے ہر ہر بال اور ہر ہر رُونگٹے پر پانی بہ جانا فرض ہے۔
حضرت ِعلّامہ ابنِ ہمام عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ السَّلَام فرماتے ہیں:اگر اس(یعنی وضو کرنے والے) کے ناخن کے اوپر خشک مِٹّی یا اس کی مثْل کوئی اور چیز چپک گئی یا دھونے والی جگہ پرسُوئی کی نوک کے برابر باقی رہ گئی تو جائز نہیں ہے یعنی وُضو نہیں ہو گا۔(فتح القدیر ،ج۱، ص۱۳ ،کوئٹہ ) محیط میں ذکر کیاگیا ہے کہ اگر کسی آدمی کے جسم پر مچھلی کی جلد یا چَبائی ہوئی روٹی لگی ہے اور خشک ہو چکی ہے اِس حالت میں اس نے غسل یا وُضو کیا اور پانی اُس کے نیچے جسم تک نہیں پہنچا تو غسل اور وُضو نہیں ہو گا، اور اسی طرح ناک کی خشک رِینٹھ کا حکم ہے، اِس لیے کہ غسل میں پورے بدن کو دھونا واجب ہے اور یہ اشیاء اپنی سختی کی وجہ سے پانی کے جسم تک پہنچنے سے مانع (یعنی رُکاوٹ) ہیں(فتاوٰی عالمگیری، ج۱،ص۵ ،غنیہ، ص۴۹،سہیل اکیڈمی، مرکز الاولیاء لاہور)
فتاوٰی عالمگیری میں ہے:اگر وُضو والی کسی جگہ پرسُوئی کی نوک کے برابر کوئی چیز باقی ہو یا ناخن کے اوپر خشک یا تر مِٹّی چپک جائے تو جائز نہیں یعنی وضو و غسل نہیں ہو گا۔اسی میں ہے: خضاب جب جرم دار