کرنا( یعنی اچّھا گُمان کرنا) واجِب ہے۔ (ایضا، ج۱۹ ،ص ۶۹۱)
وعدہ کر کے نہ آنے والوں کے بارے میں حُسنِ ظن
اگر وعدہ کر کے بھی کوئی مجلسِ ایصالِ ثواب میں نہ آیا تو اُس پر حُسنِ ظن ہی رکھا جائے کہ بھول گیا ہوگا، کوئی مجبوری آ پڑی ہو گی وغیرہ۔ اگروعدہ کرنے اوریاد ہونے کے باوُجُود بھی نہ آیا تب بھی بد گمانی کوراہ نہیں،کیوں کہ وعدہ خلافی کی تعریف یہ ہے کہ ’’ وعدہ کرتے وَقْت ہی نیّت یہ ہو کہ میں جو کہہ رہا ہوں وہ نہیں کروں گا۔ ‘‘ لہٰذا اگر بعد میں ارادہ بدل گیا تب بھی وعدہ خِلافی نہیں۔معلوم ہوا کہ وعدے کے باوُجُود مجلس میں شرکت نہ کرنے کے تعلُّق سے حُسنِ ظن کا پہلو موجود ہے۔
اپنا قول نبھانا چاہئے
البتّہ’’ ہاں‘‘ کرنے والے کو ہر ممکن صورت میں اپنا قول نبھانا چاہئے تا کہ لوگ بد ظن نہ ہوں اور بد گمانیوں ،تہمتوں ، عَیب دریوں اور غیبتوں کے دروازے نہ کُھلیں۔ خُصُوصاً موت میِّت کے مُعامَلے میں سبھی اسلامی بھائیوں کو جنازوں میں شرکت اور تعزیَت کر کے نیز ایصالِ ثواب کی مجلسوں میں حاضِری دیکر اپنا ثواب کھرا کر لینا چاہئے، اِس طرح گناہوں کے دروازے بند ہوتے اورمَحَبتَّوںکے رشتے مضبوط ہوتے ہیں۔ا علیٰ حضرت امامِ اہلِسنّت مجدِّدِ دین وملّت مولانا شاہ امام احمد رضاخانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفتاوٰی رضویہ شریف جلد 8 صَفْحَہ98 تا99 پر نَقْل کرتے ہیں: حدیث میں ہے: ’’ایمان بِاللّٰہ کے بعد سب سے بڑی عقلمندی لوگوں کے ساتھ مَحَبَّت کرنا ہے۔‘‘ (شُعَبُ الْاِیمان، ج ۶ ،ص ۲۵۵ ،حدیث: ۸۰۶۱ ) دوسری حدیثِ صحیح