Brailvi Books

شیطان کے بعض ہتھیار
41 - 50
کیا شخصیّت کا تعزیَت کرنا آخِرت کیلئے باعِث سعادت ہے؟
	خوب معذِرت کے ساتھ عَرض ہے، آپ کی مَیل کے مطابِق آپ جناب کی امّی جان کی تعزیَت کیلئے بھی تو ’’ بڑی بڑی شخصیات ‘‘ کا وُرُود ہوا تھا! ظاہِر ہے ایسا بِغیر تعلُّقات کے نہیں ہوا کرتا بلکہ بسااوقات بڑی شخصیّات کے ذَرِیعے تعزیت کی’’ سعادت‘‘ پانے کیلئے بھی سفارشوں اورترکیبوں کی ضَرورت پڑتی ہے !ہاں مَدَنی شخصیّات یعنی عُلَماء وصُلَحاء کی تشریف آوری بے شک سعادت ِدارَین کا سبب ہے۔ کسی دُنیوی افسر کی افسری سے فوت شدگان کے پسماندگان کی واہ واہ تو ہو سکتی ہے مگرجو دنیا سے جا چکے ان کو آخِرت کاکیا فائدہ پہنچ سکتا ہے!  بَسببِ منصب ایسوںکی آمد کی خواہش اورآئیں توخوشی پھر پُھول پُھول کر دوسروں سے تذکرہ کرنا کہ اپنے یہاں تو فُلاںفُلاں افسرولیڈر بھی تعزیَت کیلئے آیا تھا!یقین  مانئے اِس انداز میںحُبِّ جاہ ( یعنی عزّت و شہر ت سے مَحَبَّت ) کا اندیشہ بَشِدّت موجود ہے! بَہَرحال ’’ دُنیوی شخصیّات ‘‘ سے مُراسِم رکھنے والے، ان سے فون پر بات کرنے کروانے والے کی اُن کی اپنی نیّت اُن کے ساتھ، ہم دلوں پر حُکْم لگانے والے کون ہوتے ہیں! ہمیں ان کے بارے میں اچّھا سوچنا چاہئے، مسلمان کے افْعال کے  بارے میں حُسنِ ظن رکھنا ضَروری ہے،اعلیٰ حضرت امامِ اہلِسنّت مجدِّدِ دین وملّت مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں: مسلمان کافِعل حتَّی الامکان مُحملِ حَسَن پر مَحمول( یعنی اچّھا گُمان ) کرنا واجِب ہے اور ’’ بدگمانی‘‘ رِیا سے کچھ کم حرام نہیں۔
 (فتاوی رضویہ، ج۵ ،ص ۳۲۴)
اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِایک اور مقام پر فرماتے ہیں:  مسلمان کا حال حتَّی الاِْمْکَان صَلَاح (یعنی بھلائی )پر حَمْل