Brailvi Books

شیطان کے بعض ہتھیار
40 - 50
جان دوسرے (مسلمان) پر حرام ہے۔ ( تِرمِذی، ج۳،ص۳۷۲،حدیث: ۱۹۳۴) 
دلجوئی نہ کرنے کے دونقصانات
	ہاںمُروَّت کا تقاضا یِہی ہے کہ اگرجاننے والوں میں سے کسی پر کوئی مصیبت آئے تو اَخلاقی طور پراُس کے یہاں جاناچاہئے ۔دُکھیاروں کی دلجوئی سے خود کو محروم رکھنے میں دو نقصانات نُمایاں ہیں: (۱)خود اپنی ثواب سے محرومی(۲) اُس دُکھی اسلامی بھائی کے دل میں وَسوَسے آنے اور اُس کے مَدَنی ماحول سے دُور ہو جانے کا اندیشہ۔
شخصیّات سے تعلُّقات کے مُتَعلِّق اَہم وضاحتیں
	مساجد یا مدارِس یا مَدَنی مرکز فیضانِ مدینہ کی تعمیرات نیز دیگر مَدَنی کاموں کیلئے عطیّات کے حُصُول کی حِرْص میں کسی سرمایہ دار سے چھوٹے ذِمّے دار کا بڑے ذِمّے دار کی فون پر بات یا ملاقات کروانا یقیناکارِ ثوابِ آخِرت ہے اور حُسنِ نیّت کی بِناپر اس میں ضَرور استِحقاقِ جنَّت ہے، اِس طرح کی نیکی کے عظیم مَدَنی کام پر تنقید یا گِلہ شکوہ ہر گز صحیح نہیں۔ ایسا کرنے والے ذِمّے داروں پر مالداروںکی چاپلُوسی اورخوشامد کی بد گمانی حرام اور جہنَّم میں لے جانے والا کام ہے، بلکہ کوئی بے سبب بھی مالداروں سے تعلُّقات رکھے تو حرج نہیں جبکہ کوئی اورمانِعِ شرعی نہ ہو۔ ہاں دنیا دار کی صحبت اور بے مقصد دوستی میں بھلائی کی اُمّید کم اور نقصان کا پہلو غالِب ہے ، خُصُوصاً عُلمائ، صُلَحاء اورمُبلِغین وغیرہ کواحتیاط اَنسب تاکہ لوگ    بد گمانیوں کے گناہوں میں نہ پڑیں۔