بدگمانی کے بارے میں اعلیٰ حضرت کا فتویٰ
بدگمانی کے مُتَعلِّق ’’ فتاوٰی رضویہ‘‘ سے مختصر کردہ سُوال جواب مُلاحَظہ فرمایئے:
سُوال: زید کہتا ہے آج کل عُمُوماًفخر وتَفاخُر اوراپنی واہ واہ کروانے کیلئے دعوتیں دی جاتی ہیں لہٰذا وہ یعنی زید کسی دعوت میں نہیں جاتا۔ جواب: قَبولِ دعوت سنّت ہے۔۔۔۔اور اب کہ ایک مسلمان پر بِلا دلیل یہ گمان کیا کہ اِس کی نیّت رِیا وتَفاخُروناموری ہے تو یہ حرامِ قَطْعی ہوا۔غیر مُعَیَّن پر حکم کسی مُعَیَّن مسلمان کے لئے سمجھ لینا بدگُمانی ہے جب تک اس کے قرائِنِ واضِحہ نہ ہوںاور بد گمانی حرام۔
(مُلَخَّص ازفتاویٰ رضویہ ،ج۲۱،ص۶۷۲،۶۷۳)
نَماز جنازہ وایصالِ ثواب کے بارے میں ناراضی سے بچانے والے مَدَنی پھول
یہ مسائل ذِہْن نشین فرما لیجئے:(۱) مسلمان کی نَمازِ جنازہ فرضِ کِفایہ ہے جن جن کو اِطِّلاع مِلی اُن میں سے بعضوں نے اداکرلی تب بھی فرض اداہوچکاتو اب جو نہیں آئے وہ گنہگار نہیں ہیں، اُن نہ آنے والوں کے بارے میں بد گُمانیاں ضَرور گناہ ہیں، اُن کی مُخالَفَت کی ہر گز اجازت نہیں(۲) تعزِیت مَسنون ہے، ایصالِ ثواب یا اس کی مجلس میں شرکت مُستَحب ہے۔اِطِّلاع ہونے کے باوُجُود اگر کسی نے تعزِیت یا مجلس میں شرکت نہ کی توشَرْعاً گنہگار نہ ہوا،اُس پر تہمت رکھنے، غیبت وبدگمانی کرنے اور اُسے بُرا بھلا کہنے والا ضَرور گنہگار اور عذابِ نار کا حقدار ہے۔ حقّ تو یہ ہے کہ بِا لْفَرض مجلس میں شرکت نہ کرنا گناہ ہو تب بھی مسلمان کا پردہ رکھنے کاحُکْم ہے، اب جبکہ گناہ ہی نہیں تو پھر اُس پر زُبانِ طَعْن کھولنا کہاں کی نیکی ہے!یاد رکھئے! فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَہے: ہرمسلمان کی عزّت ، مال اور