اور اُس کی عزّت واِکرام میں اضافہ کردیجئے ۔ حُجَّۃُ الْاِسلام حضرتِِ
سیِّدُنا امام ابوحامد محمدبن محمدبن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالیارشاد فرماتے ہیں :’’ جب تمہارے دِل میں کسی مسلمان کے بارے میں بدگُمانی آئے توتمہیں چاہیے کہ اس کی رعایت (یعنی عزّت و آؤ بھگت وغیرہ )میں اِضافہ کردو اور اس کے لئے دُعائے خیر کرو ، کیونکہ یہ چیز شیطان کو غُصّہ دِلاتی ہے اور اُسے(یعنی شیطان کو) تم سے دُور بھگاتی ہے ،یوںشیطان دوبارہ تمہارے دِل میں براگُمان ڈالتے ہوئے ڈرے گا کہ کہیں تم پھر اپنے بھائی کی رِعایت اور اُس کے لئے دُعائے خیر میں مشغول نہ ہوجاؤ۔‘‘ (اِحیاءُ الْعُلوم،ج۳،ص۱۸۷) (بدگمانی سے متعلِّق زیادہ تر موادمکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ رسالے،’’ بدگمانی‘‘ (56صَفْحات)سے لیا گیاہے ،یہ رسالہ مکمّل پڑھنانہایت مفید ہے)
مجھے غیبت و چغلی و بد گمانی
کی آفات سے تُو بچا یاالہٰی
(وسائلِ بخشش ص ۸۰)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
جو لکھنے میں خطاکھا جاتا ہے وہ بولنے میں نہ جانے کیا کیا کہہ جاتا ہو گا!
عُموماً آدمی بَہُت سوچ سوچ کر چٹّھی وغیرہ لکھتا، لکھ کر نوک پلک سنوارتا اورکاٹ چھانٹ کرتا ہے تاکہ کہیں اپنی کوئی غَلَط تحریر کسی کے ہاتھ میں نہ چلی جائے تو اب اتنی احتیاطوں کے باوُجُود بھی جس پر شیطان کا ہتھیار چل جاتا ہو اور وہ غیر محتاط یا گناہوں بھرے الفاظ لکھ ڈالتا ہو خدا جانے جب وہ بولنے پر آتاہو گا تو اُس کی زُبان سے کیا کیا نکل جاتا ہو گا!