{4} بُری صُحْبت بُرے گمان پیدا کرتی ہے
بُری صُحبت سے بچتے ہوئے نیک صُحبت اِختِیار کیجئے،جہاں دوسری بَرَکتیں ملیں گی وَہیں بدگُمانیسے بچنے میں بھی مدد حاصِل ہو گی ۔حضرتِ سیِّدُنا بِشْر بن حارِث رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں : صُحْبَۃُ الْاَشْرَارِ تُوْرِثُ سُوْ ءَ الظَّنِّ بِالْاَخْیَارِ یعنی بُروں کی صُحبت اچّھوں سے بدگُمانی پیدا کرتی ہے ۔ (رسا لہ قُشیریہ، ص۳۲۷)
بُری صحبتوں سے بچا یاالٰہی
تو نیکوں کا سَنگی بنا یاالٰہی
{5} کسی سے بدگُمانی ہو تو عذابِ الٰہی سے خود کو ڈرایئے
جببھی دِل میں کسی مسلمان کے بارے میں بدگُمانی پیدا ہوتوخود کو بدگُمانی کے انجام اور عذابِ الٰہی سے ڈرائیے ۔پارہ 15 سُوۡرَۂِ بَنِیۡٓ اِسۡرآءِیۡل کی آیت نمبر 36میں اللہ تَبَارکَ وَ تَعالٰی کا فرمانِ عبرت نشان ہے:
وَ لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌؕ-اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓىٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْـٴُـوْلًا (۳۶)
ترجَمۂ کنزالایمان: اور اس بات کے پیچھے نہ پڑ جس کا تجھے علم نہیں بے شک کان اور آنکھ اور دل ان سب سے سوال ہو نا ہے
میٹھے میٹھے مَدَنی بیٹے!کسی کے بارے میں بدگُمانی پیدا ہوتو اپنے آپ کو اِس طرح ڈرایئے کہ بڑا عذاب تو دُور رہا میری حالت تو یہ ہے کہ جہنَّم کا سب سے ہلکا عذاب