Brailvi Books

شیطان کے بعض ہتھیار
35 - 50
 کونعت یا بیان سنتے ہوئے روتا دیکھ کر آپ کے دِل میں اُس کے متعلِّق رِیاکاری کی بدگُمانی پیدا ہو تو فوراً اِس کے اِخلاص سے رونے کے بارے میں حُسنِ ظن قائم کر لیجئے۔ حضرتِ سیِّدُنا مَکْحُول دِمَشْقِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِیفرماتے ہیں:’’ جب تم کسی کو روتا دیکھو تو خود بھی روؤاور اُسے رِیا کار نہ سمجھو ،میں نے ایک دَفْعہ کسی شخص کے بارے میں یہ خیال کیا تو میں ایک سال تک رونے سے محروم رہا۔‘‘ (تَنبِیہُ الْمُغتَرِّیْن ،ص۱۰۷)
خدا! بدگمانی کی عادت مٹا دے
مجھے حُسنِ ظن کا تو عادی بنا دے
{3} خود نیک بنئے تا کہ دوسرے بھی نیک نظر آئیں
    اپنی اِصلاح کی کوشِش جاری رکھئے کیونکہ جو خود نیک ہو وہ دوسروں کے بارے میں بھی نیک گُمان (یعنی اچھے خیالات )رکھتا ہے جبکہ جو خود بُرا ہو اُسے دوسرے بھی بُرے ہی دکھائی دیتے ہیں ۔ عَرَبی مَقُولہ ہے : اِذَا سَاءَ فِعْلُ الْمَرْءِ سَاءَ تْ ظُنُوْنُہٗ یعنی جب کسی کے کام بُرے ہوجائیں تو اُس کے گُمان (یعنی خیالات ) بھی بُرے ہوجاتے ہیں۔ (فیض القدیر ،ج۳،ص۱۵۷) اِمامِ اَہلسنّت مُجَدِّد ِ دین و ملّت مولاناشاہ امام اَحمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰننَقْل فرماتے ہیں: ’’خبیث گُمان خبیث دل ہی سے نکلتا ہے ۔‘‘     (فتاوٰی رضویہ، ج۲۲،ص۴۰۰)
مِرا  تن صفا ہو مِرا مَن صفا ہو
خدا! حُسنِ ظن کا خزانہ عطا ہو