اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیُوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا فرمانِ عالیشان ہے :حُسْنُ الظَّنِّ مِنْ حُسْنِ الْعِبادَۃِ۔یعنی’’اچّھا گُمان اچّھی عبادت سے ہے۔‘‘ ( ابوداوٗد، ج۴،ص۳۸۷،حدیث: ۴۹۹۳)
خدایا عطا کردے رحمت کا پانی
رہے قلب اُجلا دُھلے بدگمانیؑ
بد گمانی کیوںحرام ہے
حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام ابوحامد محمدبن محمدبن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالیفرماتے ہیں:’’بدگُمانی کے حرام ہونے کی وجہ یہ ہے کہ دِل کے بھیدوں کوصِرْف اللہ تَعَالٰیجانتا ہے، لہٰذا تمہارے لئے کسی کے بارے میں بُرا گُمان رکھنا اُس وَقْت تک جائز نہیں جب تک تم اُس کی بُرائی اِس طرح ظاہِر نہ دیکھو کہ اس میں تاویل(یعنی بچاؤ کی دلیل) کی گنجائش نہ رہے، پس اُس وَقْت تمہیں لامُحالہ(یعنی ناچار) اُسی چیز کا یقین رکھناپڑے گا جسے تم نے جانا اور دیکھا ہے اور اگر تم نے اُس کی برائی کو نہ اپنی آنکھوں سے دیکھا اورنہ ہی کانوں سے سنا مگر پھر بھی تمہارے دِل میں اس کے بارے میں بُرا گُمان پیدا ہو تو سمجھ جاؤ کہ یہ بات تمہارے دِل میں شیطان نے ڈالی ہے،اس وَقْت تمہیں چاہئے کہ دِل میں آنے والے اُس گُمان کو جُھٹلا دو کیونکہ یہ(بدگمانی) سب سے بڑا فِسْق ہے۔‘‘مزید لکھتے ہیں:’’یہاں تک کہ اگر کسی شخص کے منہ سے شَراب کی بُو آرہی ہو تو اُس کوشَرْعی حد لگانا جائز نہیں کیونکہ ہوسکتا ہے کہ اُس