حضرتِ علّامہ عبد اللّٰہ بن عمر شیرازی بَیضاوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِیکثرتِ گُمان سے مُمَانَعَت کی حِکمت بیان کرتے ہوئے’’ تفسیر بَیضاوی‘‘ میں لکھتے ہیں:’’تاکہ مسلمان ہر گُمان کے بارے میں مُحْتاط ہوجائے اور غور وفِکْر کرے کہ یہ گُمان کس قَبِیل (یعنی قِسْم ) سے ہے ۔ ‘‘ (آیا اچّھا ہے یا بُرا؟) (تفسیر بیضاوی، ج۵،ص۲۱۸)
اِس آیت ِکریمہ میں بعض گُمانوں کو گناہ قرار دینے کی وجہ بیان کرتے ہوئے اِمام فخرُالدّین رازِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْھَادِی لکھتے ہیں:’’کیونکہ کسی شخص کا کام (بعض اوقات)دیکھنے میں تو بُرا لگتا ہے مگر حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا، ممکِن ہے کہ کرنے والا اسے بھول کر کررہا ہو یا دیکھنے والا ہی خود غَلَطی پر ہو ۔‘‘ (تفسیرِ کبیر، ج ۱۰ ، ص ۱۱۰)
بدگمانی حرام ہے
دو فرامینِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ:(۱)بدگُمانی سے بچو بے شک بدگُمانی بدترین جھوٹ ہے ۔( بُخاری،ج۳،ص۴۴۶،حدیث: ۵۱۴۳) (۲)مسلمان کا خون ،مال اور اس سے بدگُمانی (دوسرے مسلمان پر)حرام ہے ۔(شُعَبُ الْاِیمان ،ج۵،ص۲۹۷،حدیث: ۶۷۰۶)
بدگمانی کی تعریف
بدگُمانی سے مُراد یہ ہے کہ ’’بِلا دلیل دوسرے کے بُرے ہونے کا دل سے اعتقادِجازِم (یعنی یقین)کرنا۔‘‘( ماخوذ اَز:فَیضُ القدیر ،ج ۳،ص۱۲۲، تحتَ الحدیث: ۲۹۰۱وغیرہ) بدگمانی سے بُغض اور حَسَد جیسے باطِنی اَمراض بھی پیدا ہوتے ہیں۔