طرح کی شکایات اُن مسلمانوں کی عزّت اُچھالنے والی اورانہیں ڈی گریڈ کرنے والی ہیں ۔ساتھ میں مزیدیہ الفاظ ’’ کیوں کہ میں غریب آدمی ہوں‘‘ میں بد گمانی کا واضِح اشارہ موجود ہے کیوں کہ اِس کا صاف مطلب یِہی نکلتا ہے کہ میں مالدار ہوتا تو میرے یہاں ضَرور آتے۔نیز مَیل میں یہاں بعض کے نام نہیں مگر اشاروں کی ترکیب ہے جس سے کئی ذِمّے داران کواُن اسلامی بھائیوں کی پہچان ہو سکتی ہے۔
بد گمانی کی تباہ کاریاں
مَیل میں یہ اظہار نہیں کیا گیا کہ یہ شکایات اِس لئے کی گئی ہیں کہ فُلاں فُلاں کی اِصلاح کی جائے بلکہ صِرْف’’ بھڑاس‘‘ نکالی گئی ہے جن کا بدگمانیوں پر مَبنی ہونا ظاہر ہے۔شیطان کا بَہُت بڑا اور بُرا ہتھیار ہے، یہ بدگمانی خاندانوں کو اُجاڑ دیتی اور بسا اوقات دینی خدمات میں رَخنہ انداز ہو کر ایک دوسرے کے خلاف ’’ لابِنگ‘‘ پر اُبھارتی ، غیبتوں ، چغلیوں اورتہمتوں،دل آزاریوں وغیرہ گناہوں کا سیلاب لاتی،دنیا کا سُکون برباد کرنے کے ساتھ ساتھ آخِرت کی بربادی کے اسباب بناتی اوریوں شیطان کی مُراد برلاتی ہے۔شیطان کے اِس خوفناک ہتھیار ’’بدگمانی‘‘ کی تباہ کاریوں کے متعلِّق کچھ معروضات پیشِ خدمت ہیں: پارہ 26سُوۡرَۃُ الۡحُجُرٰتآیت12 نمبر میں ربِّ کائنات عزوجل کا ارشاد ِپاک ہے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ٘-اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ
ترجَمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو! بَہُت گُمانوں سے بچو بیشک کوئی گُمان گناہ ہو جاتا ہے۔