حکایت:60سال کعبے کا خادِم
حضرتِ سیِّدُنا عبدُالعزیز بن ابی رَوَّاد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْجَوَادنے فرمایا: میں اس گھر (کعبۃُ اللّٰہشریف) کا 60 سال مُجاوِر(یعنی خادِم) رہا او ر میں نے 60 حج کئے(پھر انکِساراً فرمانے لگے) لیکن میں نے اللہ تَعَالٰیکے لیے جو بھی عمل کیا اُس میں جب اپنے نَفْس کا مُحاسَبہ کیا(یعنی جب اِن اعمال کی جانچ پڑتال کی،اِخلاص ٹٹولا تو اِس قدرکم نکلا کہ) شیطان کا حصّہ اللہ تَعَالٰیکے حصّے سے زیادہ پایا! کاش! میرا حساب برابر ہواگر(آخِرت میں) نَفْعْ نہ ہوتو نقصان بھی نہ ہو۔(ایضا ،ص ۱۱۵) اِخلاص کی کمی ، خودپسند ی ، رِیاو غیرہ شیطان کا حصّہ ہیںجبکہ عمل میں مکمَّل اِخلاص ہونا اللہ تَعَالٰی کا حصّہ ہے۔
بدگمانی بھری عبارت کی نِشاندہی
پیارے مدنی بیٹے! شیطان کا ہتھیار پہچاننے کی کوشِش کرتے ہوئے آپ اپنی مَیل کے ان جملوں پر غور فرمایئے:’’ اب دعوتِ اسلامی کے ذمّے داران کی شفقتیں صِرْف امیر لوگوں کیلئے ہیں۔‘‘۔۔۔۔۔۔’’اگر میں امیر ہوتا تو ایسا نہ ہوتا‘‘ نیز مکتوب کے آخِر میں دیاہوا شعر بھی بے محل ہونے کی وجہ سے اپنے اسلامی بھائیوں پر بھر پور طنز اوران کی توہین و تحقیر پر مشتمل ہے۔ آپ کی مَیل میں بعض ذِمّے داران کے تعلُّق سے یہ بھی گِلے شکوے کئے گئے ہیں کہ ’’تعزیَت نہیں کی، یا فُلاں نے تعزیت کا فون کیا تو ایصالِ ثواب نہیں کیا،فُلاں فُلاں کو مجلسِ ایصالِ ثواب کی دعوت دی مگر نہیں آئے۔۔۔۔کیوں کہ غریب آدمی ہوں‘‘ وغیرہ۔اِس