جائیں تو یہ بات اُسے بُری لگتی ہے اوروہ غمگین ہو جاتا ہے، اگر(اسکے اندر اخلاص ہوتا اور) اِس کے وَعظ (وبیان)کاباعِث دین ہوتا (اور اُس کے پیشِ نظر صِرْف لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا ہوتی تب ) تو وہ اللہ تَعَالٰیکا شکر ادا کرتا کہ اللہ تَعَالٰینے یہ کام دوسرے کے سِپُرد کر دیا۔ ایسے موقع پر شیطان اس سے کہتا ہے: تو اِس لئے غمگین نہیں کہ لوگ تجھے چھوڑ کر دوسری طرف چلے گئے بلکہ تیرے غم کا سبب یہ ہے کہ تجھ سے ثواب چلا گیا کیوں کہ اگروہ لوگ تیری بات سے نصیحت حاصِل کرتے تو تجھے ثواب ملتا اور تیرا ثواب کے چلے جانے پر غمگین ہونا اچّھا ہے اور اس بیچارے(مُقرّر یا مبلِّغ) کو معلوم نہیں کہ تبلیغ کا کام اپنے سے افضل کو سونپنازیادہ ثواب کا باعِث ہے اور خود تنہا تبلیغ کرنے کے مقابلے میں اِس صورت میں ثواب زیادہ ہو گا۔ (اِحیاءُ الْعُلوم ،ج۵،ص ۱۰۹ ،مُلَخَّصاً)
عالم کی دو رکعتیں جاہل کی سال بھر کی عبادت سے افضل
حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام ابوحامد محمدبن محمدبن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالیفرماتے ہیں: دل کی کھوٹ، شیطان کامکروفریب اورنَفْس کی خَباثت نہایت پوشیدہ ہوتی ہے، اِسی لئے کہا گیا ہے:’’عالِم کی دو رَکْعَتیں جاہِل کی ایک سال کی عبادت سے افضل ہیں۔‘‘ اور اس سے وہ عالِم مُراد ہے جو اعمال کی باریک و دَقِیق آفات کی بصیرت(پہچان) رکھتا ہو تا کہ ان آفات سے اپنے اعمال کو صاف کر سکے کیوں کہ جاہِل کی نظر ظاہِری عبادت پر ہوتی ہے اوراِ سی سے وہ دھوکا کھا جاتا ہے۔ (ایضاً،ص ۱۱۲)