محسوس ہوئی کہ آج لوگ کیا کہیں گے ! یہ خیال آنے کے سبب میں جان گیا کہ جب لوگ مجھے پہلی صَف میں دیکھتے تھے تو اِس سے مجھے خوشی ہوتی تھی اوریہ بات میرے دل کی راحت کاباعِث تھی۔ (ورنہ مجھے شرمندَگی ہوتی ہی کیوں ،کہ آج لوگ کیا کہیں گے! توگویا 30برس سے میں لوگوں کو دکھانے کیلئے پہلی صَف میں نَماز پڑھتا رہا ہوں!)
(اِحیاءُ الْعُلوم، ج۵،ص۱۰۸،بِتَصَرُّفٍ )
حکایت :نہ ثواب ملا نہ عذاب
ایک طویل روایت میں ہے کہ ایک بُزُرگ نے وفات کے بعد کسی کے خواب میں فرمایا: میں نے ایک صَدَقہ لوگوں کے سامنے دیا تو اُن کا میری طرف دیکھنا مجھے پسند آیا تو میں نے انتقال کے بعد دیکھا کہ نہ تو مجھے اِس کا ثواب ملا اور نہ ہی اِس پر عذاب ہوا۔ حضرتِ سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِیکو جب یہ واقِعہ بتایا گیا تو فرمایا: ’’یہ ان کا اچّھا مال ہے کہ عذاب نہ ہوا یہ تو عین اِحسان ہے۔‘‘ (اِحیاءُ الْعُلوم ،ج۵ ،ص ۱۰۵)
مُبلِّغ پر شیطان کا وار
حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام ابوحامد محمدبن محمدبن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالیفرماتے ہیں:( بعض واعِظین و مبلِّغین)اِس بات پر خوش ہوتے ہیں کہ لوگ ان کی بات توجُّہ سے سنتے اورقَبول کرتے ہیں اور ایساواعِظ (یامبلغ) دعویٰ کرتا ہے کہ میری خوشی کا باعِث یہ ہے کہ اللہ تَعَالٰی نے دین کی حمایت میرے لئے آسان کر دی۔ اگر اس(و اعظ یا مبلِّغ) کا کوئی ہم عَصْر اُس سے اچّھا وَعْظ (وبیان) کرتا ہو اور لوگ اِس سے ہٹ کر اُس کی طرفمُتَوَجِّہہو