ہے۔(جَمْعُ الْجَوامِع، ج۵،ص۸۳،حدیث: ۱۳۶۲۰){3}ایک بُزُرْگ کا قول ہیـ: ایک ساعت کا اِخلاص ہمیشہ کی نَجات کا باعِث ہے لیکن اِخلاص بَہُت کم پایا جاتا ہے۔(اِحیاءُالْعُلوم ج۵، ص ۱۰۶){4}حضرت سیِّدُنا خواص رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں: جو شخص رِیاست (یعنی اِقتِداراور دوسروں پربَرتری )کا پِیالہ پیتا ہے وہ بندگی کے ِاخلاص سے نکل جاتا ہے۔(ایضا ،ص ۱۱۰ ){5}حضرتِ سیِّدُنا فضیل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے فرمایا: لوگوں کی وجہ سے عمل چھوڑنا ریا ہے اور مخلوق کو دکھانے کیلئے عمل کرنا شرِکِ(اصغر) ہے۔ (ایضاً ،ص ۱۱۰)
تین عطائیں تین محرومیاں
بعض بُزُرگوں نے فرمایا : اللہ تَعَالٰیجب کسی بندے کو ناپسند کرتا ہے تو اُسے تین باتیں عطا کرتاہے اور تین باتوں سے روک دیتا ہے{۱} اسے صالحین (یعنی نیک بندوں) کی صُحبت تو عطا کرتا ہے مگر وہ بندہ اُن کی کوئی بات قَبول نہیں کرتا {۲}اسے اچّھے اعمال کی توفیق تودیتا ہے لیکن اُسے اِخلاص سے نہیں نوازتا{۳} اسے حِکمت تو عنایت فرماتا ہے لیکن اُسے اس میں صداقت سے محروم رکھتا ہے۔ (ایضا ص ۱۰۶)
30برس کی نَمازیں قضا کیں
ایک بُزُرْگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :میں نے30برس کی نَمازیں قَضا کیں، وجہ اِس کی یہ ہوئی کہ میں ہمیشہ ہر نَماز پہلی صَف میں با جماعت ادا کرتا رہا۔30برس کے بعد کسی مجبوری کے سبب تاخیر ہو گئی اور مجھے دوسری صَف میں جگہ ملی،اِس سے مجھے شرمندَگی