وجَلوت (یعنی تنہائی اوردوسروں کی موجودَگی) میں بندے کی حرکات وسَکنات صِرْف اللہ عَزَّ وَجَلَّ کیلئے ہوں،اس میں نَفْس،خواہش یا دنیا کا کوئی دخْل نہ ہو۔(اَلْمَجْمُوع لِلنَّوَوی،ج۱،ص۱۷)
اِخلاص کے معنیٰ ’’رِضائے الٰہی کیلئے عمل کرنا‘‘
اِخلاص عبادت کی روح ہے،صَدرُالشَّریعہ،بَدرُالطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِیفرماتے ہیں:’’عبادت کوئی بھی ہو اُس میں اِخلاص نہایت ضَروری چیز ہے یعنی مَحض رِضائے الٰہی کے لیے عمل کرنا ضَرور ہے۔ دِکھاوے کے طور پر عمل کرنابِالاْجماع حرام ہے، بلکہ حدیث میں رِیا کو شرکِ اَصغر فرمایا۔ اِخلاص ہی وہ چیز ہے کہ اس پر ثواب مُرتَّب ہوتا ہے، ہوسکتا ہے کہ عمل صحیح نہ ہو مگر جب اِخلاص کے ساتھ کیا گیا ہو تو اُس پر ثواب مُرتَّب ہومَثَلاً لاعِلْمی میں کسی نے نَجِس(یعنی ناپاک ) پانی سے وُضو کیا اورنَماز پڑھ لی اگرچِہ یہ نَماز صحیح نہ ہوئی کہ صحّت(یعنی دُرست ہونے) کی شَرْط طَہارت (پاکی) تھی وہ نہیں پائی گئی مگر اُس نے صِدْقِ نیّت(یعنی سچّی نیّت) اور اِخلاص کے ساتھ پڑھی ہے تو ثواب کا تَرَتُّب ہے یعنی اِس نَماز پر ثواب پائے گا مگر جبکہ بعد میں معلوم ہوگیا کہ ناپاک پانی سے وُضُو کیا تھا تو(نَماز نہ ہوئی اور) وہ مُطالَبہ جو اس کے ذِمّے ہے ساقِط نہ ہوگا، وہ بدستور قائم رہے گا اس کو ادا کرنا ہوگا۔‘‘
(بہارِ شریعت ،جلد ۳ ،ص ۶۳۶)
اِخلاص یہ ہے کہ ’’اپنے عمل کی تعریف‘‘نا پسند ہو
جن کا ذِہْن یہ ہو تا ہے کہ ہم نے بَہُت سارا علمِ دین حاصِل کیا،تعلیمِ علمِ دین