سب سے بُرا ہوں۔نیز اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی دی ہوئی توفیق سے اگر کوئی نیکی کا موقع نصیب ہو بھی جائے تو اُسے زیورِ اِخلاص سے مُزیَّن کیجئے۔ اللہُ تَعَالٰی بوسیلۂ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ آپ کو اور آپ کے صدقے مجھ گنہگار وں کے سردارکو اپنا مُخلِص بندہ بنائے۔ اٰمین۔ فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ:جو بندہ چالیس دن خالِص اللہُ تَعَالٰی کے لیے عمل کرے اللہُ تَعَالٰی حکمت کے چشمے اُس کے دل سے اس کی زُبان پر ظاہِر کر دیتا ہے۔(اَلتَّرغِیب وَالتَّرہِیب ،ج۱،ص۲۴،حدیث:۱۳)
اِخلاص کی5 تعریفات
{1} صرف اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رِضاکے لیے عمل کرنااور مخلوق کی خوشنودی یا اپنی کسی نفسانی خواہش کو اُس میں شامِل نہ ہونے دینا{2} حضرتِ علّامہ عبد الغنی نابُلُسی حنفی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِیلکھتے ہیں:اِخلاص اِس چیز کا نام ہے کہ بندہ عمل سے صرف اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا قُرْب حاصِل کرنے کا ارادہ کرے، کسی قسم کا دُنْیوی نَفْع مقصود نہ ہو ۔ (اَلْحَدِیْقَۃُ النَّدِیَّۃ ،ج ۲ ،ص ۶۴۲) {3}حضرتِ ِسیِّدُنا حُذَیفہ مَرْعَشِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِیفرماتے ہیں: اِخلاص اس چیز کا نام ہے کہ ظاہر وباطن ( اکیلے اور دوسروں کی موجودَگی )میں بندے کا عمل برابر ہو۔ (اَلْمَجْمُوع لِلنَّوَوی ،ج ۱،ص۱۷) {4} حضرتِ سیِّدُنا مُحاسِبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِیفرماتے ہیں: ’’اِخلاص یہ ہے کہ جوربّ عَزَّ وَجَلَّ کامُعامَلہ ہو اُس میں سے مخلوق کو نکال دے۔‘‘(اِحیاٗءُ الْعُلوم، ج۵، ص ۱۱۰ ) {5}حضرتِ سیِّدُناسَہْل بن عبد اللّٰہ تُسْتَری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِیفرماتے ہیں : اخلاص یہ ہے کہ خَلوت