تلواریں نکل آئیں بنو عبدالدار اور بنو عدی کے قبیلوں نے تواس پر جان کی بازی لگا دی اور زمانہ جاہلیت کے دستور کے مطابق اپنی قسموں کو مضبوط کرنے کے لئے ایک پیالہ میں خون بھر کر اپنی انگلیاں اس میں ڈبو کر چاٹ لیں ۔پانچویں دن حرم کعبہ میں تمام قبائل عرب جمع ہوئے اور اس جھگڑے کو طے کرنے کے لئے ایک بڑے بوڑھے شخص نے یہ تجویز پیش کی کہ کل جو شخص صبح سویرے سب سے پہلے حرم کعبہ میں داخل ہو اس کو پنچ مان لیا جائے۔ وہ جو فیصلہ کر دے سب اس کو تسلیم کر لیں۔ چنانچہ سب نے یہ بات مان لی۔ خدا عزوجل کی شان کہ صبح کو جو شخص حرم کعبہ میں داخل ہوا وہ حضور رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہی تھے۔ آپ کو دیکھتے ہی سب پکار اٹھے کہ واللہ یہ ''امین '' ہیں لہٰذا ہم سب ان کے فیصلہ پر راضی ہیں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس جھگڑے کا اس طرح تصفیہ فرمایا کہ پہلے آپ نے یہ حکم دیا کہ جس جس قبیلہ کے لوگ حجر اسود کو اس کے مقام پر رکھنے کے مدعی ہیں ان کا ایک ایک سردار چن لیا جائے ۔چنانچہ ہر قبیلہ والوں نے اپنا اپنا سردار چن لیا۔ پھر حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی چادر مبارک کو بچھا کر حجراسود کو اس پر رکھااور سرداروں کو حکم دیا کہ سب لوگ اس چادر کو تھام کر مقدس پتھر کو اٹھائیں ۔ چنانچہ سب سرداروں نے چادر کو اٹھایا ا ور جب حجر اسود اپنے مقام تک پہنچ گیا تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے متبرک ہاتھوں سے اس مقدس پتھر کو اٹھا کر اس کی جگہ پر رکھ دیا۔اس طرح ایک ایسی خونریز لڑائی ٹل گئی جس کے نتیجہ میں نہ معلوم کتنا خون خراباہوتا۔(1) (سیرت ابن ہشام ج۱ ص۱۹۶ تا۱۹۷)
خانہ کعبہ کی عمارت بن گئی لیکن تعمیر کے لئے جوسامان جمع کیاگیاتھاوہ کم