Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
90 - 872
ملک ِشام کا دوسرا سفر
جب آپ صلی  اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی عمر شریف تقریباً پچیس سال کی ہوئی تو آپ کی امانت و صداقت کا چرچا دور دور تک پہنچ چکا تھا۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا مکہ کی ایک بہت ہی مالدار عورت تھیں۔ ان کے شوہر کا انتقال ہو چکا تھا۔ ان کو ضرورت تھی کہ کوئی امانت دار آدمی مل جائے تو اس کے ساتھ اپنی تجارت کا مال و سامان ملک شام بھیجیں۔ چنانچہ ان کی نظر انتخاب نے اس کام کے لئے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو منتخب کیا اور کہلا بھیجا کہ آپ صلی  اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میرا مال تجارت لے کر ملک شام جائیں جو معاوضہ میں دوسروں کو دیتی ہوں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی امانت و دیانت داری کی بنا پر میں آپ کو اس کا دوگنا دوں گی۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کی درخواست منظور فرما لی اورتجارت کا مال و سامان لے کر ملک شام کو روانہ ہو گئے۔ اس سفر میں حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنے ایک معتمد غلام ''میسرہ'' کو بھی آپ صلی  اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ کر دیا تا کہ وہ آپ کی خدمت کرتا رہے۔ جب آپ صلی  اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ملک شام کے مشہور شہر''بصریٰ'' کے بازار میں پہنچے تو وہاں ''نسطورا'' راہب کی خانقاہ کے قریب میں ٹھہرے۔ ''نسطورا'' میسرہ کو بہت پہلے سے جانتا پہچانتا تھا۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی صورت دیکھتے ہی ''نسطورا'' میسرہ کے پاس آیا اور دریافت کیا کہ اے میسرہ! یہ کون شخص ہیں جو اس درخت کے نیچے اتر پڑے ہیں ۔میسرہ نے جواب دیا کہ یہ مکہ کے رہنے والے ہیں اورخاندان بنو ہاشم کے چشم و چراغ ہیں ان کا نام نامی ''محمد'' اور لقب ''امین'' ہے۔ نسطوراء نے کہا کہ سوائے نبی کے اس درخت کے نیچے آج تک کبھی کوئی نہیں اترا۔ اس لئے مجھے یقین کامل ہے کہ ''نبی آخر الزماں'' یہی ہیں۔ کیونکہ آخری نبی کی تمام نشانیاں جو میں نے توریت و انجیل میں پڑھی ہیں وہ سب میں ان میں دیکھ رہا ہوں۔ کاش!میں اس وقت زندہ رہتا جب یہ
Flag Counter