Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
88 - 872
ذوالقعدہ،ذوالحجہ، محرم اور رجب ،ان چار مہینوں کا بے حد احترام کرتے تھے اور ان مہینوں میں لڑائی کرنے کو گناہ جانتے تھے۔یہاں تک کہ عام طور پر ان مہینوں میں لوگ تلواروں کو نیام میں رکھ دیتے۔اور نیزوں کی برچھیاں اتار لیتے تھے۔ مگر اس کے باوجود کبھی کبھی کچھ ایسے ہنگامی حالات درپیش ہو گئے کہ مجبوراً ان مہینوں میں بھی لڑائیاں کرنی پڑیں۔ توان لڑائیوں کو اہل عرب ''حروب فجار''( گناہ کی لڑائیاں) کہتے تھے۔ سب سے آخری جنگ فجار جو '' قریش'' اور ''قیس'' کے قبیلوں کے درمیان ہوئی اس وقت حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی عمر شریف بیس برس کی تھی۔ چونکہ قریش اس جنگ میں حق پر تھے،اس لئے ابو طالب وغیرہ اپنے چچاؤں کے ساتھ آپ نے بھی اس جنگ میں شرکت فرمائی۔ مگر کسی پر ہتھیار نہیں اٹھایا۔ صرف اتنا ہی کیا کہ اپنے چچاؤں کو تیر اٹھا اٹھا کر دیتے رہے۔ اس لڑائی میں پہلے قیس پھر قریش غالب آئے اور آخر کار صلح پر اس لڑائی کا خاتمہ ہو گیا۔(1) (سیرت ابن ہشام ج۲ ص۱۸۶)
حلف الفُضول
    روز روز کی لڑائیوں سے عرب کے سیکڑوں گھرانے برباد ہو گئے تھے۔ ہر طرف بدامنی اور آئے دن کی لوٹ مار سے ملک کا امن و امان غارت ہو چکا تھا۔ کوئی شخص اپنی جان و مال کو محفوظ نہیں سمجھتا تھا۔ نہ دن کو چین،نہ رات کو آرام،اس وحشت ناک صور تِ حال سے تنگ آکر کچھ صلح پسند لوگوں نے جنگ فجار کے خاتمہ کے بعد ایک اصلاحی تحریک چلائی۔ چنانچہ بنو ہاشم، بنو زہرہ، بنو اسد وغیرہ قبائل قریش کے بڑے بڑے سردار ان عبداللہ بن جدعان کے مکان پر جمع ہوئے اور حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے
1۔۔۔۔۔۔المواھب اللدنیۃمع شرح الزرقانی، خروجہ الی الشام ، ج۱،ص۳۶۲والسیرۃ النبویۃ لابن ھشام ،حرب الفجار،ص۷۵
Flag Counter