| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
ہے کہ میں اور ابو الشیخ تو سو گئے مگر طبرانی بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک علوی نے آ کر دروازہ کھٹکھٹایا۔ ہم نے کھولا تو کیا دیکھتے ہیں کہ ان کے ساتھ دو غلام ہیں جن میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں ایک ٹوکری ہے جو قسم قسم کے کھانوں سے بھری ہوئی ہے۔ ہم لوگوں نے بیٹھ کر کھایا اور خیال کیا کہ بچے ہوئے کھانے کو غلام لے لے گا مگر وہ باقی کھانا بھی ہمارے پاس چھوڑ کر چلا گیا۔ جب ہم کھانے سے فارغ ہوئے تو علوی نے ہم سے کہا کہ کیا تم نے حضور نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے فریاد کی تھی کیونکہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے خواب میں مجھے حکم دیا کہ میں تمہارے پاس کچھ کھانا لے جاؤں۔(1)
ایک ظالم پر فالج گرا
ایک شخص نے روضہ اقدس کے پاس نماز فجر کے لئے اذان دی اور جونہی اس نے ''اَلصَّلٰوۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ'' کہا، خدا م ِمسجد میں سے ایک شخص نے اٹھ کر اس کو ایک تھپڑ مارا۔ اس شخص نے رو کر عرض کیا کہ یا رسول اﷲ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) ''آپ کے حضور میں میرے ساتھ یہ سلوک کیا جاتا ہے؟'' اسی وقت اس خادم پر فالج گرا۔ اسے وہاں سے اٹھا کر لے گئے اور وہ تین دن کے بعد مر گیا۔(2)
(تذکرۃ الحفاظ، مصباح الظلام و کتاب الوفاء وغیرہ)
الغرض حضرات انبیاء کرام علیہم السلام اور اولیاء عظام رضی اﷲ تعالیٰ عنہم سے توسل اور استغاثہ جائز بلکہ مستحسن ہے۔ یہی و جہ ہے کہ لاکھوں علماء ربانیین و اولیاء کاملین ہر دور میں بزرگان دین سے نظم و نثرمیں توسل واستغاثہ کرتے رہے اوریہی اہل سنت و جماعت کا مقدس مذہب ہے۔1۔۔۔۔۔۔وفاء الوفاء للسمہودی ، الفصل الثالث فی توسل الزائر...الخ،ج۲،ص ۱۳۸۰،۱۳۸۱ 2۔۔۔۔۔۔وفاء الوفاء للسمہودی ، الفصل الثالث فی توسل الزائر وتشفعہ ...الخ ،ج۲، ص ۱۳۸۲