| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
شخص نے میرے والد کے پاس اسّی دینار بطور امانت رکھے اور یہ کہہ کر جہاد میں چلا گیا کہ میری واپسی تک اگر تمہیں اس کی ضرورت پڑے تو خود خرچ کر لینا۔ والد نے قحط سالی میں یہ رقم خرچ کر ڈالی۔ اس شخص نے جہاد سے واپس آ کر اپنی رقم کا مطالبہ کیا۔ والد نے اس سے وعدہ کر لیا کہ کل آنا اور رات مسجد نبوی میں گزاری کبھی قبر انور سے لپٹتے، کبھی منبر اطہر سے چمٹتے اسی حال میں صبح کر دی ابھی کچھ اندھیرا ہی تھا کہ ناگہاں ایک شخص نمودار ہوا وہ یہ کہہ رہا تھا کہ اے ابو محمد! یہ لو۔ والد نے ہاتھ بڑھایا تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ ایک تھیلی ہے جس میں اسی دینار ہیں صبح کو والد نے وہی دینار اس شخص کو دے دئیے۔(1)
قبر انور سے روٹی ملی
مشہوربزرگ اورصوفی حضرت ابن جلادرحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ کابیان ہے کہ میں مدینہ منورہ میں داخل ہوا اور فاقہ سے تھامیں نے قبر انور پر حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اﷲ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم)میں اپ کامہمان ہوں اتناعرض کرکے میں سوگیا۔خواب میں حضورنبی اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے مجھے ایک روٹی عنایت فرمائی آدھی میں نے کھالی۔ جب آنکھ کھلی تو آدھی روٹی میرے ہاتھ میں تھی۔ (2)
امام طبرانی کو کیسے کھانا ملا؟
امام ابو بکر مقری کہتے ہیں کہ میں اور امام طبرانی اور ابو شیخ تینوں حرم نبوی میں فاقہ سے تھے جب عشاء کا وقت آیا تو میں نے قبر شریف کے پاس حاضر ہو کر عرض کیا یارسول اﷲ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ) ''ہم لوگ بھوکے ہیں۔'' یہ عرض کرکے میں لوٹ آیا۔ امام ابو القاسم طبرانی نے مجھ سے کہا کہ بیٹھو رزق آئے گا یا موت۔ ابوبکر مقری کا بیان
1۔۔۔۔۔۔وفاء الوفاء للسمھودی،الفصل الثالث فی توسل الزائر...الخ،ج۲،ص ۱۳۸۰،۱۳۸۱ 2۔۔۔۔۔۔وفاء الوفاء للسمہودی ، الفصل الثالث فی توسل الزائر...الخ،ج۲،ص ۱۳۸۰،۱۳۸۱