| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
جب حضور اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم بچپن میں ابو طالب کی کفالت میں تھے تو حضور کی یہ چچی یعنی ابو طالب کی بیوی فاطمہ بنت اسد آپ کا بڑا خاص خیال رکھتی تھیں یہ اسی احسان کا بدلہ تھا کہ آپ نے ان کو اپنی چادر مبارک کا کفن پہنایا اور خود اپنے دست رحمت سے اُن کی قبر کی لحدکھودی اور ان کی قبر میں کچھ دیر لیٹ کر دعا فرمائی۔
اﷲ اکبر! واللہ!اس قبر میں قیامت تک رحمت کے پھولوں کی بارش ہوتی رہے گی جس قبر والے پرر حمۃ للعالمین کی رحمت کا اتنا بڑا بڑاکرم ہوا۔اَللّٰھُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِکْ عَلٰی نَبِیِّکَ نَبِیِّ الرَّحَمْۃِ وَاٰلِہِ وَصَحْبِہٖ دَائِمًا اَبَدًا
(۳) وفات اقدس کے بعد توسل
وفات اقدس کے بعد بھی حضرات صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہم اپنی حاجتوں اور مصیبتوں کے وقت حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو اپنی دعاؤں میں وسیلہ بنایا کرتے تھے بلکہ آپ کو پکار کر آپ سے استغاثہ کیا کرتے تھے۔
بارش کے لئے استغاثہ
حضرت امیر المؤمنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں قحط پڑگیا تو حضرت بلال بن حارث صحابی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی قبر انور پر حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اﷲ !(صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) اپنی امت کے لئے بارش کی دعا فرمائیں وہ ہلاک ہو رہی ہے۔ رسول صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے خواب میں ان سے ارشاد فرمایا کہ تم حضرت عمر کے پاس جا کر میرا سلام کہو اوربشارت دے دو کہ بارش ہو گی اور یہ بھی کہہ دو کہ وہ نرمی اختیار کریں ۔اس شخص نے بارگاہ خلافت میں حاضر ہو کر خبر کر دی۔ حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ یہ سن کر روئے پھر کہا اے رب! میں