| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
اَللّٰھُمَّ اِنّیْ اَسْئَلُکَ وَاَتَوَجَّہُ اِلَیْکَ بِنَبِیِّکَ مُحَمَّدٍ نَبِیِّ الرَّحْمَۃِ یَامُحَمَّدُ اِنِّیْ تَوَجَّھْتُ بِکَ اِلٰی رَبِّیْ فِیْ حَاجَتِیْ ھٰذِہٖ لِتُقْضٰی لِیْ اَللّٰھُمَّ فَشَفِّعْہُ فِیَّ
یااللہ! میں تیری بارگاہ میں سوال کرتا ہوں اور تیرے نبی،نبی رحمت کا وسیلہ پیش کرتا ہوں یا محمد! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) میں نے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں آپ کا وسیلہ پیش کیا ہے اپنی اس ضرورت میں تا کہ وہ پوری ہو جائے یا اﷲ! تو میرے حق میں حضور کی شفاعت قبول فرما۔
اس حدیث کو ترمذی و نسائی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے فرمایا کہ ھذا حدیث حسن صحیح غریب اور امام بیہقی و طبرانی نے بھی اس حدیث کو صحیح کہا ہے مگر امام بیہقی نے اتنا اور کہا ہے کہ اس نابینا نے ایسا کیا اور اس کی آنکھیں اچھی ہوگئیں۔ (1)(وفاء الوفا جلد۲ ص۴۳۰)دعاء نبوی میں وسیلہ
حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی والدہ ماجدہ حضرت فاطمہ بنت اسد رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کاجب انتقال ہوا اور ان کی قبر تیار ہو گئی تو خود حضوراکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے ان کی قبر کی لحد کھودی پھر اس قبر میں لیٹ کر آپ نے یوں دعا فرمائی کہ
یااﷲ!میری ماں(چچی)فاطمہ بنت اسد کو بخش دے اوراس پر اس کی قبر کو کشادہ فرما دے۔ بوسیلہ اپنے نبی کے اور ان نبیوں کے وسیلہ سے جو مجھ سے پہلے ہوئے ہیں کیونکہ تو ارحم الراحمین ہے۔ (2) (وفاء الوفاء جلد۲ ص۸۹)1۔۔۔۔۔۔سنن الترمذی ،کتاب احادیث شتی ، باب:۱۱۸، الحدیث:۳۵۸۹،ج۵، ص ۳۳۶ و وفاء الوفا ء للسمہودی،الفصل الثالث فی تو سل الزائرو تشفعہ...الخ،ج۲،ص۱۳۷۲ 2۔۔۔۔۔۔وفاء الوفاء للسمہودی،الفصل السادس القبور التی نزلھا رسول اللہ...الخ،ج۲،ص۸۹۸۔۸۹۹