| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
نے عرض کیا کہ اے میرے پروردگار! جب تو نے مجھے پیدا فرما کر میرے بدن میں روح پھونکی تو میں نے سر اٹھا کر دیکھا کہ عرش مجید کے پایوں پر لا الٰہ الا اﷲ محمد رسول اﷲلکھا ہوا ہے۔ اس سے میں نے سمجھ لیا کہ تو نے جس کے نام کو اپنے نام کے ساتھ ملا کر عرش پر تحریر کرایا ہے وہ یقینا تیرا سب سے بڑا محبوب ہو گا۔ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے آدم (علیہ السلام) بے شک تم نے سچ کہا وہ میرے نزدیک تمام مخلوق سے زیادہ محبوب ہیں چونکہ تم نے ان کو میرے دربار میں وسیلہ بنایا ہے اس لئے میں نے تم کو معاف کر دیا اور سن لو کہ اگر محمد (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نہ ہوتے تو میں تم کو پیدا نہ کرتا۔ اس حدیث کو امام بیہقی نے روایت فرمایا ہے۔(1) (روح البیان سورۂ احزاب ص۲۳۰)
(۲) ظاہری حیات اقدس میں توسل
حضرات صحابہ کرام آپ کی مقدس مجالس میں حاضر ہو کر جس طرح اپنی دین و دنیا کی تمام حاجتیں طلب فرماتے تھے اسی طرح اپنی دعاؤں میں آپ کو وسیلہ بھی بنایا کرتے تھے۔ بلکہ خود حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے بعض صحابہ کو یہ تعلیم دی کہ وہ اپنی دعاؤں میں رسول کی مقدس ذات کو خداوند تعالیٰ کے دربار میں وسیلہ بنائیں۔ چنانچہ ''معجزات'' کے ذکر میں آپ ایک نابینا کے بارے میں یہ حدیث پڑھ چکے کہ ایک نابینا بارگاہ اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ آپ اﷲ تعالیٰ سے دعا کردیں کہ وہ مجھے عافیت بخشے آپ نے فرمایا کہ اگرتو چاہے تو میں دعا کر دیتا ہوں اور اگر تو چاہے تو صبر کر صبر تیرے حق میں اچھا ہے۔ جب اس نے دعا کے لئے اصرار کیا تو آپ نے اس کو حکم دیا کہ تم اچھی طرح وضو کرکے یوں دعا مانگو کہ
1۔۔۔۔۔۔تفسیر روح البیان ، الجزء الثانی والعشرون ، سورۃ الاحزاب ، ج۷،ص۲۳۰