| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
ہے بہر حال وہابیہ خذلہم اﷲ نے عداوت رسول میں اس حدیث کا مطلب بیان کرنے میں اتنی بڑی جہالت کا ثبوت دیا ہے کہ قیامت تک تمام اہل علم انکی اس جہالت پر ماتم کرتے رہیں گے۔
بارگاہِ خداوندی میں رسول کا وسیلہ
حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو بارگاہ الٰہی میں وسیلہ بنا کر دعا مانگنا جائز بلکہ مستحب ہے۔ اسی کو توسل و استغاثہ و تشفع وغیرہ مختلف الفاظ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو خدا کے دربار میں وسیلہ بنا نا یہ حضرات انبیاء مرسلین کی سنت اور سلف صالحین کا مقدس طریقہ ہے۔ اور یہ توسل حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی ولادت شریفہ سے پہلے آپ کی ظاہری حیات میں اور آپ کی وفات اقدس کے بعد تینوں حالتوں میں ثابت ہے۔ چنانچہ ہم یہاں تینوں حالتوں میں آپ سے توسل کرنے کی چند مثالیں نہایت ہی اختصار کے طورپر ذکرکرتے ہیں۔
(۱) ولادت سے قبل تَو سُّل
روایت ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام نے دنیا میں آ کرباری تعالیٰ سے یوں دعا مانگی کہ
یَارَبِّ اَسْئَلُکَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ اَنْ تَغْفِرَ لِیْ
اے میرے پروردگار! میں تجھ سے محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے وسیلہ سے سوال کرتا ہوں کہ تو مجھے معاف فرما دے۔
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے آدم ! تم نے محمد (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کو کس طرح پہچانا حالانکہ میں نے ابھی تک ان کو پیدا بھی نہیں فرمایا؟ حضرت آدم علیہ السلام