| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
اس لئے ان تین مسجدوں کے سوا کسی دوسری مسجد کی طرف کجاوے باندھ کر دور دور سے سفر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اس حدیث کو مشاہدہ مقابر کی طرف سفر کرنے یا نہ کرنے سے تو کوئی تعلق نہیں ہے۔
اگر اس بات کو عالموں کی زبان میں سمجھنا ہو تو یوں سمجھئے کہ اس حدیث میں اِلَّا اِلٰی ثَلٰثَۃِ مَسَاجِدَ مستثنیٰ مفرغ ہے اور'' مستثنیٰ مفرغ'' میں ''مستثنیٰ منہ'' ہمیشہ وہی مقدر مانا جائے گاجو مستثنیٰ کی نوع ہو مثلاً''مَا جَاءَ نِیْ اِلَّا زَیْدٌ''میں لفظ جِسْمٌ یا حَیْوَانٌ کو مستثنیٰ منہ مقدر نہیں مانا جائے گا اور اس عبارت کا مطلب''مَاجَاءَ نِیْ جِسْمٌ اِلَّا زَیْدٌ''یا''مَاجَاءَ نِیْ حَیْوَانٌ اِلَّا زَیْدٌ''
نہیں مانا جائے گا بلکہ اس کا مطلب یہی مانا جائے گا کہ
''مَا جَاءَ نِیْ رَجُلٌ اِلَّا زَیْدٌ''
تو اس حدیث میں بھی ''مستثنیٰ منہ'' بجز لفظ ''مسجد'' اور کوئی دوسرا ہو ہی نہیں سکتا لہٰذا حدیث کی اصل عبارت یہ ہوئی کہ
''لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ اِلٰی مَسْجِدٍ اِلَّا اِلٰی ثَلٰثَۃِ مَسَاجِدَ ''
یعنی تین مسجدوں کے سوا کسی دوسری مسجد کی طرف کجاوے نہ باندھے جائیں۔
چنانچہ اس حدیث کی بعض روایات میں یہ لفظ آیابھی ہے۔مثلاًایک روایت میں یوں آیا ہے کہلاینبغی للمطی ان یشد رحالہ الی مسجد یبتغی فیہ الصلاۃ غیر المسجد الحرام والمسجد الاقصیٰ ومسجدی ھذا(1)(قسطلانی و عمدۃ القاری)
یعنی سواریوں پر کجاوے کسی مسجد کی طرف بقصد نماز نہ باندھے جائیں سوائے مسجد حرام اور مسجد اقصیٰ اور میری اس مسجد کے۔
ملاحظہ فرمائیے کہ اس حدیث میں مستثنیٰ منہ ذکرکر دیا گیاہے اور وہ اِلٰی مَسْجِدٍ1۔۔۔۔۔۔عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری،کتاب فضل الصلوۃ فی مسجدمکۃ والمدینۃ، باب فضل الصلاۃ فی مسجدمکۃ...الخ،تحت الحدیث:۱۱۸۹،ج۵،ص۵۶۳،۵۶۴،۵۶۶