| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
حکم دیا کہ اس کو اس قسم کی زجرو توبیخ کی جائے کہ وہ ایسے مفاسد سے باز آ جائے اور احمد بن عمر مقدسی حنبلی نے بھی ایسا ہی حکم لکھا نتیجہ یہ ہوا کہ ابن تیمیہ شعبان ۷۲۶ھ میں دمشق کے قلعہ کے اندر قید کیا گیا اور جیل خانہ ہی میں ۲۰ ذوالقعد ۷۲۸ھ کو وہ اس دنیا سے رخصت ہوا۔مواخذہ اخروی ابھی باقی ہے۔(1)(منقول ازسیرت رسول عربی ص۵۳۳)
حدیث ''لاتشدالرحال''
ابن تیمیہ اوراس کی معنوی اولاد یعنی فرقہ وہابیہ قبر انور کی زیارت سے منع کرنے کے لئے بخاری کی اس حدیث کو بطور دلیل کے پیش کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ
لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ اِلَّا اِلٰی ثَلٰثَۃِ مَسَاجِدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ مَسْجِدِ الرَّسُوْلِ وَمَسْجِدِ الْاَقْصٰی.(2)
کجاوے نہ باندھے جائیں مگر تین ہی مسجدوں یعنی مسجد حرام و مسجد رسول و مسجد اقصیٰ کی طرف۔ (بخاری جلد۱ ص۱۵۸ باب فضل الصلوٰۃ فی مسجد مکۃ و المدینۃ)
اس حدیث کا سیدھا سادہ مطلب جس کو تمام شراح حدیث نے سمجھا ہے یہی ہے کہ تمام دنیامیں تین ہی مسجدیں یعنی مسجدحرام،مسجدرسول،مسجداقصیٰ ایسی مساجد ہیں جن کو تمام دنیا کی مسجدوں پر اجروثواب کے معاملہ میں ایک خاص فضیلت حاصل ہے۔ لہٰذا ان تین مسجدوں کی طرف کجاوے باندھ کر دور دور سے سفر کرکے جانا چاہیے لیکن ان تین مسجدوں کے سوا چونکہ دنیا بھر کی تمام مسجدیں اجروثواب کے معاملہ میں برابر ہیں۔1۔۔۔۔۔۔سیرت رسول عربی ، باب امت پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حقوق کا بیان ، ص۵۰۵ 2۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری ،کتاب فضل الصلاۃ فی مسجد مکۃ والمدینۃ، باب فضل الصلاۃ...الخ، الحدیث: ۱۱۸۹،ج۱، ص ۴۰۱