Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
851 - 872
کے فضائل کے بارے میں جو حدیثیں کندہ کی ہوئی تھیں، نجدی حکومت نے ان حدیثوں پرمسالہ لگوا کر ان کو مٹانے کی کوشش کی ہے اگرچہ اب بھی اس کے بعض حروف ظاہر ہیں۔ اسی طرح مسجد نبوی کے گنبدوں کے اندرونی حصہ میں قصیدہ بردہ شریف کے جن اشعار میں توسل واستغاثہ کے مضامین تھے ان سب کومٹادیاگیاہے۔باقی اشعارباقی گنبدوں پر اس وقت تک باقی تھے۔ میں نے جو کچھ دیکھا ہے وہ جولائی  ۱۹۵۹؁ء کا واقعہ ہے اسکے بعد وہاں کیا تبدیلی ہوئی اس کا حال نئے حجاج کرام سے دریافت کرنا چاہیے۔
ابن تیمیہ کا فتویٰ
    بعض لوگ انبیاء کرام اور اولیاء و شہداء کے مزاروں کی طرف سفر کرنے کو حرام و ناجائز بتاتے ہیں۔ چنانچہ وہابیوں کے مورث اعلیٰ ابن تیمیہ نے تو کھلے الفاظ میں یہ فتویٰ دے دیا کہ حضور اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے روضہ مبارکہ کے قصد سے سفر کرنا گناہ ہے اس لئے اس سفر میں نمازوں کے اندر قصر جائز نہیں۔ (معاذ اﷲ)

    ابن تیمیہ کے اس فتویٰ سے شام و مصر میں بہت بڑا فتنہ برپا ہو گیا۔ چنانچہ شامیوں نے ابن تیمیہ کے بارے میں علماء حق سے استفتاء طلب کیا اور علامہ برہان بن کاح فزاری نے تقریباً چالیس سطروں میں فتویٰ لکھ کر ابن تیمیہ کو ''کافر'' بتایا اور علامہ شہاب بن جہبل نے اس فتویٰ پر اپنی مہر تصدیق لگائی۔ پھر مصر میں یہی فتویٰ حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی،چاروں مذاہب کے قاضیوں کے سامنے پیش کیا گیا۔ چنانچہ علامہ بدر بن جماعہ شافعی نے اس پر یہ فیصلہ تحریر فرمایا کہ ابن تیمیہ کو ایسے فتاویٰ باطلہ سے بزجر وتوبیخ منع کیا جائے اگر باز نہ آئے تو اس کو قید کردیا جائے اورمحمد بن الجریری حنفی نے یہ حکم دیا کہ اسی وقت بلا کسی شرط کے اُس کو قید کیا جائے اور محمدبن ابی بکر مالکی نے یہ
Flag Counter