Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
850 - 872
میں میری زیارت کی اور جو حرمین شریفین میں سے ایک میں مر گیا وہ قیامت کے دن امن والوں کی جماعت میں اٹھایا جائیگا۔

    اسی لئے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے مقدس زمانے سے لے کر آج تک تمام دنیا کے مسلمان قبر منور کی زیارت کرتے اور آپ کی مقدس جناب میں توسل اور استغاثہ کرتے رہے ہیں اور ان شاء اﷲ تعالیٰ قیامت تک یہ مبارک سلسلہ جاری رہے گا۔

    چنانچہ حضرت امیر المؤمنین علی مرتضیٰ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ وفات اقدس کے تین دن بعد ایک اعرابی مسلمان آیا اور قبر انور پر گر کر لپٹ گیا پھر کچھ مٹی اپنے سر پر ڈال کر یوں عرض کرنے لگا کہ

    یا رسول اﷲ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) آپ نے جو کچھ فرمایا ہم اس پر ایمان لائے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ نے آپ پر قرآن نازل فرمایا جس میں اس نے ارشاد فرمایا:
وَلَوْاَنَّھُمْ اِذْظَّلَمُوْآ اَنْفُسَھُمْ...الخ (1)
تو یا رسول اﷲ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم)میں نے اپنی جان پر (گناہ کرکے )ظلم کیا ہے اس لئے میں آپ کے پاس آیا ہوں تا کہ آپ میرے حق میں مغفرت کی دعا فرمائیں۔ اعرابی کی اس فریاد کے جواب میں قبر انور سے آواز آئی کہ ''اے اعرابی! تو بخش دیا گیا۔'' (2)(وفاء الوفا جلد۲ ص۴۱۲) 

ضروری تنبیہ

    ناظرین کرام یہ سن کر حیران ہوں گے کہ میں نے بچشم خود دیکھا ہے کہ گنبد خضرا کے اندرمواجہہ اقدس اوراس کے قریب مسجدنبوی کی دیواروں پرقبرانورکی زیارت
1۔۔۔۔۔۔پ۵،النسآء:۶۴

2۔۔۔۔۔۔وفاء الوفاء للسمہودی ، الفصل الثانی فی بقیۃ ادلۃ الزیارۃ...الخ،ج۲، ص ۱۳۶۱
Flag Counter