میں میری زیارت کی اور جو حرمین شریفین میں سے ایک میں مر گیا وہ قیامت کے دن امن والوں کی جماعت میں اٹھایا جائیگا۔
اسی لئے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے مقدس زمانے سے لے کر آج تک تمام دنیا کے مسلمان قبر منور کی زیارت کرتے اور آپ کی مقدس جناب میں توسل اور استغاثہ کرتے رہے ہیں اور ان شاء اﷲ تعالیٰ قیامت تک یہ مبارک سلسلہ جاری رہے گا۔
چنانچہ حضرت امیر المؤمنین علی مرتضیٰ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ وفات اقدس کے تین دن بعد ایک اعرابی مسلمان آیا اور قبر انور پر گر کر لپٹ گیا پھر کچھ مٹی اپنے سر پر ڈال کر یوں عرض کرنے لگا کہ
یا رسول اﷲ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) آپ نے جو کچھ فرمایا ہم اس پر ایمان لائے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ نے آپ پر قرآن نازل فرمایا جس میں اس نے ارشاد فرمایا: