Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
849 - 872
وہاں خدا سے استغفار کرے اور چونکہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم تو اپنی قبر انور میں اپنی امت کے لئے استغفار فرماتے ہی رہتے ہیں۔ لہٰذا اس گناہگار کے لئے مغفرت کی تینوں شرطیں پائی گئیں۔ اس لئے ان شاء اﷲ تعالیٰ اس کی ضرور مغفرت ہو جائے گی۔

    یہی و جہ ہے کہ چاروں مذاہب کے علماء کرام نے مناسک حج و زیارت کی کتابوں میں یہ تحریر فرمایا ہے کہ جو شخص بھی روضہ منورہ پر حاضری دے اس کے لئے مستحب ہے کہ اس آیت کو پڑھے اور پھر خدا سے اپنی مغفرت کی دعا مانگے۔

    مذکورہ بالا آیت مبارکہ کے علاوہ بہت سی حدیثیں بھی روضہ منورہ کی زیارت کے فضائل میں واردہوئی ہیں جن کوعلامہ سمہودی رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ نے اپنی کتاب''وفاء الوفا'' اور دوسرے مستند سلف صالحین علماء دین نے اپنی اپنی کتابوں میں نقل فرمایا ہے۔ ہم یہاں مثال کے طور پر صرف تین حدیثیں بیان کرتے ہیں۔
(۱) مَنْ زَارَ قَبْرِیْ وَجَبَتْ لَہٗ شَفَاعَتِیْ(1)(دار قطنی و بیہقی وغیرہ)
جس نے میری قبر کی زیارت کی اس کے لئے میری شفاعت واجب ہو گئی۔
(2) مَنْ حَجَّ الْبَیْتَ وَلَمْ یَزُرْنِیْ فَقَدْ جَفَانِیْ(2)(کامل ابن عدی)
جس نے بیت اﷲ کا حج کیا اور میری زیارت نہ کی اس نے مجھ پر ظلم کیا۔
(۳) مَن زَارَ نِیْ بَعْدَ مَوْتِیْ فَکَاَنَّمَا زَارَنِیْ فِیْ حَیَاتِیْ وَمَنْ مَّاتَ بِاَحَدِ الْحَرَمَیْنِ بُعِثَ مِنَ الْاٰمِنِیْنَ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ (3)(دار قطنی وغیرہ)
جس نے میری وفات کے بعد میری زیارت کی اس نے گویا میری حیات
1۔۔۔۔۔۔سنن الدار قطنی ،کتاب الحج ، باب المواقیت، الحدیث:۲۶۶۹،ج۲،ص ۳۵۱

2۔۔۔۔۔۔الکامل فی ضعفاء الرجال ، النعمان بن شبل الباھلی البصری،ج۸، ص ۲۴۸

3۔۔۔۔۔۔سنن الدار قطنی ، کتاب الحج ، باب المواقیت، الحدیث:۲۶۶۸،ج۲، ص ۳۵۱
Flag Counter