اور اگریہ لوگ جس وقت کہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں آپ کے پاس آجاتے اور خداسے بخشش مانگتے اوررسول ان کے لئے بخشش کی دعا فرماتے تو یہ لوگ خدا کو بہت زیادہ بخشنے والا مہربان پاتے۔( نساء)
اس آیت میں گناہگاروں کے گناہ کی بخشش کے لئے ارحم الراحمین نے تین شرطیں لگائی ہیں اول دربار رسول میں حاضری۔ دوم استغفار۔ سوئم رسول کی دعائے مغفرت۔اور یہ حکم حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی ظاہری دنیوی حیات ہی تک محدود نہیں بلکہ روضہ اقدس میں حاضری بھی یقینا دربار رسول ہی میں حاضری ہے۔ اسی لئے علماء کرام نے تصریح فرما دی ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دربار کا یہ فیض آپ کی وفات اقدس سے منقطع نہیں ہوا ہے۔ اس لئے جو گناہگار قبر انور کے پاس حاضر ہو جائے اور