حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اہل بیت و آپ کی ازواج مطہرات اور آپ کے اصحاب کو گالی دینا یا انکی شان میں تنقیص کرنا حرام ہے اور ایسا کرنے والا ملعون ہے۔ (1)
(شفاء شریف جلد۲ ص۲۶۶)
یہی و جہ ہے کہ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا اس قدر ادب و احترام کرتے تھے اور آپ کی مقدس بارگاہ میں اتنی تعظیم و تکریم کا مظاہرہ کرتے تھے کہ حضرت عروہ بن مسعود ثقفی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جب کہ مسلمان نہیں ہوئے تھے اور کفار مکہ کے نمائندہ بن کر میدان حدیبیہ میں گئے تھے تو وہاں سے واپس آ کر انہوں نے کفار کے مجمع میں علی الاعلان یہ کہا تھا کہ
اے میری قوم! میں نے بادشاہ رُوم قیصر اور بادشاہ فارس کسریٰ اور بادشاہ حبشہ نجاشی سب کا دربار دیکھا ہے مگر خدا کی قسم! میں نے کسی بادشاہ کے درباریوں کو اپنے بادشاہ کی اتنی تعظیم کرتے نہیں دیکھا جتنی تعظیم محمد (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ) کے اصحاب محمد (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی کرتے ہیں۔(2)(بخاری جلد۱ ص۳۸۰ باب الشروط فی الجہاد وغیرہ)
چنانچہ مندرجہ ذیل مثالوں سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے اصحاب کبار اپنے آقائے نامدار کے دربار میں کس قدر تعظیم و تکریم کے جذبات سے سرشار رہتے تھے۔